پاکستان میں حال ہی میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس دوران سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی دہشت گردی کے خطرے میں ہے جس کے باعث شہر میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران سیکورٹی اقدامات معمول کے مطابق سخت کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سیکورٹی بڑھا دی ہے اور ممکنہ دہشت گردی بشمول خودکش حملے کے خدشے کے پیش نظر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں رمضان کے دوران سیکورٹی ہمیشہ ہائی الرٹ رکھی جاتی ہے اور اس سال بھی معمول کے مطابق حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق عوام کے تحفظ کے لیے اضافی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی گشت کا نظام مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال رمضان المبارک میں سحری، افطار اور تراویح کے اوقات میں سیکورٹی سخت کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکورٹی کے یہ اقدامات صرف مذہبی مقامات تک محدود نہیں بلکہ رمضان کے دوران بازاروں اور تجارتی مراکز میں بھی سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے شہریوں نے سخت سیکورٹی اور پولیس چیک پوسٹوں پر طویل قطاروں کے باعث مشکلات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








