وہاں تو سخت خطرات تھے لیکن کیا واقعی ملائیشیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے کر رہا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Is Malaysia handing over Dr. Zakir Naik to India?

ملائیشیا وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ انتہا پسندی میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے جائیںتو ملائیشیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ہندوستان کی حوالگی کی درخواست پر غور کرے گا۔

بھارت کے سرکاری دورے کے دوران انور ابراہیم نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے یہ مسئلہ اٹھایا تھا تاہم حال ہی میں اس پر بات نہیں ہوئی تھی۔

انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز میں ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں ہے بلکہ انتہا پسندی کے جذبات کا ہے اور ایسے ثبوتوں کی ضرورت ہے جو کسی فرد یا گروہ کی طرف سے کیے گئے کسی بھی مظالم کی نشاندہی کرتا ہو۔

Is Malaysia handing over Dr. Zakir Naik to India?

انہوں نے زور دے کر کہاکہ ’’ہم دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے موقف میں سخت رہے ہیں اور دہشت گردی سے متعلق بہت سے معاملات پر ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ تاہم میں نہیں سمجھتا کہ یہ ایک معاملہ ہمارے جاری تعاون اور ہمارے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی میں رکاوٹ بننا چاہیے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کون ہیں؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک اسلامی مبلغ ہیں جو پیس ٹی وی اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں۔ دبئی میں قائم پیس ٹی وی پر بھارت میں پابندی عائد ہے لیکن دنیا بھر میں ان کے لاکھوں مداھ ہیں۔ ذاکرنائیک کے پاس میڈیکل کی ڈگری بھی ہے تاہم انہوں نے 1990 کی دہائی میں اپنی مذہبی تبلیغ کے ذریعے شہرت حاصل کی۔

Is Malaysia handing over Dr. Zakir Naik to India?

ڈاکٹر ذاکر نائیک ملائیشیا میں کیوں رہ رہے ہیں؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک 2016 میں ڈھاکہ بنگلہ دیش میں ایک بیکری پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد نفرت انگیز تقاریر کرنے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزام کے بعد ہندوستان سے فرار ہو گئے جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سے وہ بھارتی حکام کو مطلوب ہیں۔

جون 2019 میں ہندوستان کی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر ملائیشیا سے ڈاکٹر ذاکر کی حوالگی کی درخواست کی اور اشارہ کیا کہ وہ اس معاملے کی پیروی جاری رکھے گا۔ ایک بھارتی عدالت نے ڈاکٹر ذاکر کو جون 2019 میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا تھا۔ فی الحال خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملائیشیا میں مقیم ہیں، جہاں انہیں 2018 سے سیاسی پناہ دی گئی تھی۔

Related Posts