کیا سعودی عرب ایٹم بم بنا رہا ہے؟ اسرائیل کا واویلا بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

کیا سعودی عرب بھی جوہری کلب میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں، تاہم اس حوالے سے اسرائیل سے اٹھنے والا دھواں بتا رہا ہے کہ آگ واقعی لگی ہوئی ہے۔

گزشتہ دنوں دی اسرائیل کے موقر جریدے ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی ادارہ برائے ایٹمی توانائی (Atomic Energy Commission)کے سابق اہم ذمہ دار ایریل لیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کا پرامن ایٹمی منصوبہ کسی بھی وقت دفاعی نوعیت کی شکل اختیارکرسکتاہے۔

لیوٹ کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگراسرائیلی حکومت سعودی عرب کے پرامن ایٹمی منصوبے پرراضی ہوگئی تو یہ بین الاقوامی طور پرایک بہت خطرناک مثال بن جائے گی جس سے مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔

اس سابق اسرائیلی افسرکو سعودی حکومت کی طرف سے عالمی ایٹمی اداروں کو دی جانے والی کسی طرح کی ضمانتوں اور یقین دہانیوں پربھی اعتبار نہیں ہے، چنانچہ لیوٹ زور دے کر اسرائیلی حکومت کو سعودی عرب  کو ایٹمی طاقت کی طرف قدم اٹھانے سے باز رکھنے کی تجویز دے رہے ہیں۔

ایک ایسا ملک جو نہ صرف خود کئی ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل لیس ہے بلکہ اپنی تمام تر فوجی طاقت کو وہ بے گناہ فلسطینیوں پر بے دریغ استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتا، سوال یہ ہے کہ ایسے ملک کو کسی دوسرے ملک کے ایٹمی پروگرام پر اعتراض کا کیا حق ہے۔

اسرائیلی اخبار اور اہلکار کا یہ واویلا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے بعد عالم اسلام کا ایک اور اہم ترین ملک سعودی عرب بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔

Related Posts