وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ طارق بشیر چیمہ نے بہاولپور اسلامی یونیورسٹی اسکینڈل میں اپنے بیٹے ولیداد چیمہ کے ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔
پیر کے دن بہاولپور میں واقع اپنے گھر پر اسکینڈل میں میبنہ طور پر ملوث اپنے بیٹے ولیداد چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ان کے سیاسی حریف اس کیس کو انہیں بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما طارق بشیر چیمہ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس معاملے کی مناسب تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے۔
اس اعلان کے ساتھ کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہر انکوائری کمیٹی سے تعاون کرنے کو تیار ہیں، طارق چیمہ نے کہا کہ اگر ولیداد اس معاملے میں ملوث ہوا تو وہ اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیں گے۔
طارق بشیر چیمہ کے بیٹے پر الزامات
قبل ازیں معروف اینکرپرسن اقرار الحسن کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا تھا کہ طارق بشیر چیمہ کے بیٹے ولیداد اس اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ اپنے حالیہ ویلاگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے کے بعد انہیں ملزمان کی جانب سے ‘سنگین دھمکیاں’ مل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمے دار طارق بشیر چیمہ اور ان کے بیٹے ولیداد ہوں گے۔
اسکینڈل کیا ہے؟
بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی میں منشیات کے استعمال اور فروخت، غیر قانونی جنسی ادویات اور طالبات کی جنسی ویڈیوز جیسی غیر قانونی سرگرمیوں پر مشتمل ایک بڑا اسکینڈل اس ماہ کے شروع میں منظر عام پر آیا تھا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے چیف سیکیورٹی آفیسر کو پولیس نے منشیات رکھنے اور یونیورسٹی کی خواتین اہلکاروں اور طالبات کی ننگی ویڈیوز اور تصاویر سمیت قابل اعتراض مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔
دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث اور ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








