امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب میں غزہ میں پائیدار جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی تجویز کا انکشاف کیا جس کے بعد غزہ میں جاری حماس اور اسرائیل کی جنگ کے بارے اور ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
عرب دنیا کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدرکی جانب سے اعلان کردہ تجویز جنگ کو مکمل ختم کرنے کے حوالے سے مزید کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان سوالوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا یہ اسرائیلی تجویز ہے یا امریکی تجویز؟ کیا اس تجویز کو پیش کرنےسے پہلے اس پرکوئی اسرائیلی امریکی معاہدہ طےپایا تھا یا صدر بائیڈن نے اسےاسرائیل کے ساتھ بغیر ہم آہنگی کے پیش کیا؟ اگرتجویز اسرائیلی ہے تو بائیڈن نے اسرائیلی قیادت سے اسے قبول کرنے کا مطالبہ کیوں کیا؟
العربیہ کے مطابق اس حوالے سے مصری دفاہی تجزیہ کار میجر جنرل الدویری نے نشاندہی کی کہ یہ واضح ہے کہ امریکی صدر نیتن یاہو پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے تقریر میں براہ راست اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے جنگ بندی کی تجاویز کا ذکر کیا۔
بائیڈن کو اس بات کا یقین ہے یہ اسرائیلی حکومت جنگ ختم کرنے پر تیار نہیں۔ یہ تجویز مرحلہ وار اور تدریجی اصول پر مبنی ہے جو اس سے قبل مصرکی طرف سے پیش کی گئی تجویز سے کافی حد تک ملتی جلتی ہے۔
مصری دانشور نے مزید کہا کہ اس تجویز کا مقصد جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور مزاحمتی دھڑوں کے زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔ اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی متفقہ تعداد کو رہا کیا جائے گا، تاہم قیدیوں کی تعدادف کے بارے میں مذاکرات کے ذریعے فیصلہ کیا جائےگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے اب تک کے سرکاری رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو اس تجویز پر تحفظات ہیں کیونکہ وہ حماس کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل نہیں کر پایا۔ اس لیے اسرائیلی موقف سب سے اہم رکاوٹ ہوگا تاہم نیتن یاہو کو جنگ بندی کے بغیر مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
میجر جنرل الدویری نے حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس بائیڈن کی تجویز کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے۔ یہ تجویز کے ساتھ اسرائیل کے اندر علاقائی، بین الاقوامی اور مقامی معاملات کے حوالے سے اہم عوامل میں سے ایک ہو گا۔ حماس کی اعلان کردہ پوزیشن اسرائیل کو ایک بڑی مخمصے میں ڈال دے گی اور اس پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
الدویری نے مزید کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ نیتن یاہو کی ترجیح حکمران اتحاد کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا ہے اور اس جنگ سے فتح یاب ہو کر ابھرنا ہے۔ وہ اب تک ان اہداف کو حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








