سری لنکا کے 1996 کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے سابق کپتان ارجونا رانتنگا کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزارتِ تیل کے دوران ایسے فیصلے کیے جن کے باعث قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
الزامات کی تفصیل
سری لنکا کی اینٹی کرپشن ایجنسی کمیشن ٹو انویسٹی گیٹ الیگیشنز آف برائبری یا کرپشن نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ارجونا رانتنگا اور ان کے بھائی نے تیل کی خریداری کے نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں کیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری ادارے سیلون پٹرولیم کارپوریشن کو تقریباً 800 ملین سری لنکن روپے (تقریباً 23.5 کروڑ بھارتی روپے) کا نقصان پہنچا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق رانتنگا نے طویل المدتی اور نسبتاً سستے معاہدوں کے بجائے مہنگی مختصر مدتی خریداریوں (اسپاٹ پرچیزز) کو ترجیح دی، جس سے ریاستی خزانے کو نقصان ہوا۔
گرفتاری کی صورتحال
حکام کا کہنا ہے کہ ارجونا رانتنگا اس وقت بیرونِ ملک موجود ہیں اور ان کی وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اس مقدمے میں ارجونا رانتنگا کے بھائی دھمیکا رانتنگا، جو اُس وقت سیلون پٹرولیم کارپوریشن کے چیئرمین تھے کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا تھا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ ان پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے۔کیس کی آئندہ سماعت 13 مارچ 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ارجونا رانتنگا سری لنکا کے اُن نامور کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1996 کرکٹ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دی۔ یہ کامیابی سری لنکا کی کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی فتح سمجھی جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








