اسلام آباد اور راولپنڈی میں جمعے کے روز شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مذہبی جماعت کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر انتظامیہ نے دونوں شہروں کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے ہیں۔
وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل ڈیٹا سروسز کو مزید احکامات تک معطل رکھنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے کمشنرز، آئی جی پولیس اور آر پی او دفاتر کے ساتھ رابطہ کر کے فوری اقدامات کرے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ دارالحکومت کے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں، وکلاء کو عدالتوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ بار نے عدالتوں سے استدعا کی ہے کہ وکلاء کی غیر حاضری کی بنیاد پر کسی مقدمے میں منفی حکم جاری نہ کیا جائے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ اسلحہ کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ حکم ابتدائی طور پر 14 دن کے لیے جاری کیا گیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اس کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اداروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ممکنہ دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اس لیے عوامی اجتماعات، سرکاری عمارات، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے لاہور سمیت مختلف شہروں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
لاہور میں متعدد اہم شاہراہیں بند کیے جانے کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم لاہور کے سی ای او کے مطابق، والدین کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر اطلاع دی جا رہی ہے۔
دوسری طرف وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں مذہبی جماعت پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ مارچ کے نام پر ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمیشہ پُرامن احتجاج کی اجازت دیتی ہے، مگر ٹی ایل پی نے نہ تو کوئی اجازت طلب کی اور نہ ہی قانونی ضابطوں کی پابندی کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو لاٹھیاں، شیشے کی بوتلیں، کیمیکل، آنسو گیس کے شیل اور ماسک لیے ہوئے تھے۔
طلال چوہدری نے سوال اٹھایاکہ کیا یہ پُرامن احتجاج کا سامان ہے یا تشدد کے لیے تیاری؟ ان کے مطابق گرفتار شدگان کی شناخت کی جا چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








