اسلام آباد: نظریاتی سیاست کے دعوے دار کالم نویس کی رضا مندی سے یہ منصب تخلیق کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اہلیت اور قابلیت کو بالائے رکھتے ہوئے دیگر اہل امیدواروں کو مسترد کر دیا۔
پی ٹی وی کی ویب سائٹ میں 14 جون 2021 میں دیگر پوسٹوں کے ساتھ ایک نئی پوسٹ جنر ل منیجر ریلجس کانٹینٹ تخلیق کی گئی۔ جاری ہونے والے اشتہار کے مطابق تعلیمی قابلیت کم از کم بی اے یا ایم اے سوشل سائنس، دس سال کا تجربہ، دینی و مذہبی معلومات قرآن سنت کے اعتبار سے مستحکم اور عمر کی حد 57 سال مقرر کی گئی۔
جب کہ جی ایم منصب کی ذمہ داریوں سے متعلق تحریر کیا گیا تھا کہ امید وار کا مذہبی پروگرام کی منصوبہ بندی پر عمل در آمد کرنا، پروگرام کا کانٹینٹ بنانا، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں نئے آئیڈیاز تخلیق کرنا، قومی اور بین الاقوامی سطح پر پر اسلام کے تناظر میں امن و سلامتی کے تصور کو ابھارنے کے لیے پاکستان کے تمام نامور مکاتب فکر کے علمائے کرام اور اسکالرز سے اپنی نگرانی میں رابطہ رکھنا، نیز وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ میں رہنا وغیرہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصب پر اشتہار میں موجود تعلیمی قابلیت اور تجربہ میں زیادہ اہل امید وار کے بجائے کم تر اہلیت والے امید وار معروف کالم نگار خورشید ندیم کو نوازہ گیا ہے۔

تحریک انصاف کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی ہدایت پر معروف کالم نویس خورشید ندیم کے لیے پہلی مرتبہ باقاعدہ جنرل منیجر برائے مذہبی امور کی پوسٹ تخلیق کی۔ رسمی بنیاد پر انٹرویو کے ایک ہفتہ کے بعد خورشید ندیم کے لیے خاموشی سے نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا۔
پی ٹی وی کے ایک اہم ذریعہ نے نام نہ بتانے شرط پر انکشاف کیا ہے کہ بے شمار درخواستوں کی جب اسکروٹنی کا عمل شروع ہوا تو اس میں سے کچھ ایسے افراد بھی تھے جو نہ صرف مذہبی سکالر تھے بلکہ ان الیکٹرونک میڈیا کا تجربہ اور تعلیمی قابلیت بھی مقررہ معیار سے بہت زیادہ تھی۔ لیکن وفاقی وزیر کی ہدایت پر افسران بالا کے حکم کے تحت اُن اہل اور پی ایچ ڈی سطح کے افراد کو پہلے مرحلے میں ہی فارغ کر دیا اور انہیں شارٹ لسٹ میں شامل کیا گیا اور نہ ہی انٹرویوں کے لیے بلایا گیا تاکہ اہل افراد کسی بھی طریقہ سے انٹرویو میں شریک نہ ہو سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک رسمی انٹریوں کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ کوئی امیدوار کسی عدالت میں چیلنج نہ کرسکے۔ ذرائع کے مطابق معروف کالم نگار کے عمومی کالمز موجودہ حکومت کے خلاف اور ن لیگ کے بیانیہ کو سپورٹ کرنا ہوتا تھا۔ گزشتہ حکومت میں نواز لیگ کی حکومت میں پی ٹی وی میں بطور مبصر اور میزبان سیاسی اور مذہبی پروگرام کرچکے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی،IBA نے ہراسمنٹ کی نشاندہی کرنے والے طالبعلم پر بھونڈے الزمات لگا دیئے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








