اسلام آباد پولیس سماجی کارکن ایمان مزاری کی رہائی کے فوراً بعد گرفتاری کیلئے عدالت کے احاطے کے باہر پہنچ گئی ہے جہاں پولیس اہلکاروں نے شیریں مزاری کی صاحبزادی کو حراست میں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس بارہ کہو تھانے میں درج ایک اور مقدمے میں سابق وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری کو گرفتار کرلیا۔
علی وزیر اور ایمان مزاری کی ضمانت منظور
ایمان زینب مزاری اڈیالہ جیل سے رہائی پانے ساتھ ہی بارہ کہو اسلام آباد کے
مقدمے میں دوبارہ گرفتار#ImaanMazari #ShireenMazari pic.twitter.com/lgEogO4P83— Siasat.pk (@siasatpk) August 28, 2023
دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایمان مزاری کو پریس کانفرنس سے خطاب کے بغیر رہا نہیں کیا جائے گا جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) بغاوت سے متعلق مقدمے میں انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کی ضمانت منظور کرچکی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل انسدادِ دہشت گردی اسلام آباد نے ایک اور مقدمے میں علی وزیر اور ایمان مزاری کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت کے جج ابوالحسنات نے ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف دھمکی، اشتعال اور بغاوت کے کیس میں درخواست کی سماعت کی۔
درخواستِ ضمانت کی سماعت پر پراسیکیوٹر کی جانب سے راجہ نوید نے پیش ہو کر ملزمان کے خلاف دلائل دئیے جبکہ ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے بھی عدالت میں حاضر ہو کر مقدمے کی سماعت ملاحظہ کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








