اسلام آباد: جڑواں شہروں میں چلنے والے میٹروبس خواتین کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہوگئی۔
میٹرو بس میں سفر کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ بس میں ایک جنگلہ یا گیٹ ہونا چاہیئے تاکہ مردوں کا داخلہ خواتین والے حصے میں کسی بھی طرح سے نہ ہوسکے مرد ہمیں تنگ کرتے ہیں خواتین کی نشستوں پر آکہ بیٹھ جاتے ہیں۔
بس میں سفر کرنے والی ایک خاتون کاملہ درانی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور میٹروبس انتظامیہ کو چاہیئے کہ جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں چلنے والی میٹروبس میں خواتین و نوجوان لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے، مرد حضرات ہر اسٹیشن سے کوشش کرکے خواتین والے پورشن میں داخل ہو جاتے ہیں۔
پشاور پولیس لائنز پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، سی ٹی ڈی
نازیہ صدیقی مسافرہ کہتی ہیں کہ وفاقی دالحکومت و راولپنڈی میں چلنے والی میٹروبس جہاں عوام کو کم کرائے میں بہترین سفری سہولیات فراہم کررہی ہے وہیں خواتین میٹروبس میں اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ سمجھنا شروع ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرد مسافر حضرات ہر اسٹیشن سے عورتوں کے محدود اور کم نشستوں والے حصے میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں، مرد حضرات خواتین کو تنگ کرتے ہیں، مردوں مسافروں کی جانب سے خواتین پر آوازیں کسی جاتی ہیں، خواتین و نوجوان لڑکیوں کے لیئے میٹروبس کا سفر انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
نادیہ کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان، انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس، انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس، وزارت داخلہ اور میٹروانتظامیہ خواتین کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کرے، جو لوگ میٹروبس میں معصوم خواتین کو ہراسگی کا نشانہ بناتے ہیں انھیں فوری قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں۔حکومت پاکستان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے سے میٹروبس میں خواتین کے عملی تحفظ پر اولین و ترجیحی اقدامات اٹھائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








