پولیس اور فوج ملکر بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کریں گے، آئی ایس پی آر

تازہ ترین

تازہ ترین

ONLINE

پاک فوج نے حاضر سروس افسر کی گرفتاری سے شروع ہونے والے پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے درمیان حالیہ تصادم کی شفاف تحقیقات کرنے اعلان کیا ہے۔

یہ واقعہ جس نے عید کی چھٹیوں کے دوران سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی، اس میں پاکستان آرمی کے جوانوں کا صوبہ پنجاب کے شہر بہاولنگر میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنا شامل تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ فوج کے سپاہی پولیس اسٹیشن پر پولیس پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے ایک فوجی کے بھائی سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا۔

فوجیوں کا ایک گروپ کئی گاڑیوں میں پولیس اسٹیشن پر پہنچا، ایک پولیس افسر سے زبردستی چابیاں چھین لیں اور احاطے میں گھس گئے، جس سے افراتفری پھیل گئی۔ انہوں نے رائفل کے بٹوں اور لاٹھیوں کا استعمال کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا، جس سے سٹیشن ایس ایچ او سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے، جن کی چوٹیں واضح تھیں۔

رپورٹس کے مطابق فوجی سات سے آٹھ گاڑیوں کے قافلے میں پہنچے اور اے ڈویژن پولیس اسٹیشن میں گھس گئے۔اس کے جواب میں پولیس کے چار اہلکاروں بشمول اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو غیر قانونی حراست، ڈیوٹی میں غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے ایس ایچ او کو سوشل میڈیا پر واقعے کے بارے میں “غلط معلومات” پھیلانے پر محکمانہ انکوائری کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

فوج کے میڈیا ونگ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بہاولنگر میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کا اعتراف کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ فوج اور پولیس حکام کے درمیان مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس کا فوری طور پر نمٹا گیا۔

بیان میں سوشل میڈیا پر تفرقہ انگیز پروپیگنڈہ پھیلانے کی مذمت کی گئی جس کا مقصد ریاستی اداروں اور سرکاری محکموں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پولیس اور فوج ملکر واقعہ کی تحقیقات کرینگے۔

Related Posts