ہمارے ازلی دشمن بھارت کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد ڈرون اٹیک کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پاکستانی فوج نے مختلف مقامات پر اسرائیلی ساختہ مزید 48 بھارتی ڈرون مار گرائے ہیں، جس کے بعد اب تک تباہ کیے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 77 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں بیشتر بغیر پائلٹ طیاروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اسرائیلی ساختہ ہیں۔ حالیہ جارحیت میں اسرائیل مکمل طور پر بھارت کی پشت پر کھڑا ہے۔ اس نے بھارت کی حمایت کی فوری تصدیق کی تھی، جب نئی دہلی نے پاکستان میں 9 مقامات پر میزائل حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔بدھ کے روز بھارت میں اسرائیلی سفیر روفین عازر (Reuven Azar) نے کہا کہ “اسرائیل بھارت کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔” ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اسرائیلی سفیر نے مزید لکھا: “دہشت گردوں کو جان لینا چاہیے کہ ان کے معصوموں کے خلاف بھیانک جرائم سے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔” اسرائیل اور بھارت کے تعلقات گزشتہ چند دہائیوں میں انتہائی مضبوط، اسٹرٹیجک اور کثیر الجہتی بن چکے ہیں، خاص طور پر دفاع، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور سائبر سیکورٹی کے میدانوں میں۔
بھارت نے 1950ء میں اسرائیل کو تسلیم تو کر لیا تھا، لیکن دونوں ملکوں کے مکمل سفارتی تعلقات 1992ء میں قائم ہوئے۔ اس سے قبل بھارت فلسطینیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ مگر مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد تل ابیب اور نئی دہلی کے مابین دوطرفہ دوروں، معاہدوں اور تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور 2014ء میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد تو دونوں کی مسلم دشمنی نے ان تعلقات کو گہری دوستی میں بدل دیا۔ اب تو اسرائیل، روس کے بعد بھارت کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے باراک میزائل سسٹم، ہارون اور سرچر ڈرونز، اسپائیک میزائل، فالکن AWACS سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل اسلحہ خریدا ہے۔ کارگل جنگ (1999) کے دوران اسرائیل نے بھارت کو خفیہ معلومات اور فوجی امداد فراہم کی تھی۔ دونوں ملکوں کی بدنام خفیہ ایجنسیوں موساد اور را (RAW) کے درمیان معلومات کے تبادلے اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون جاری ہے۔
سائبر سیکورٹی، ہیکنگ اور سرویلنس ٹیکنالوجیز کے میدان میں بھی اسرائیلی کمپنیاں بھارت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل بھارت میں زراعتی تربیتی مراکز (Centers of Excellence) قائم کر چکا ہے۔ خشک سالی سے نمٹنے، ڈرپ ایریگیشن اور واٹر مینجمنٹ میں اسرائیلی تکنیک بھارت کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت (بی جے پی) اور اسرائیل کی قیادت (نیتن یاہو وغیرہ) کے درمیان دائیں بازو کی نظریاتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک مسلم دشمن بیانیے، فلسطین مخالف مؤقف اور قومی سلامتی کے نام پر سخت گیر پالیسیوں میں مماثلت رکھتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی قربت مسلم دنیا، بالخصوص پاکستان، ایران، اور ترکیہ کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ان تعلقات کو مسلم کش پالیسیوں کی بنیاد سمجھتا ہے۔ اس کے پیچھے صرف نظریاتی اختلاف نہیں، بلکہ ٹھوس حقائق ہیں، اسرائیل بھارت کے ساتھ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنے کی کوششیں کرچکا ہے۔ دونوں انسانیت دشمن ممالک نے مل کر 1983-84 میں پاکستان کے ایٹمی مرکز “کہوٹہ” پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ بھارتی فوجی حکام نے خفیہ طور پر اسرائیل کا دورہ کیا اور “کہوٹہ” کی فضائی دفاعات کو ناکام بنانے کے لیے الیکٹرانک جنگی آلات خریدنے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے بھارت کے “جم نگر” فضائی اڈے کو حملے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔
اسرائیلی طیارے یہاں سے پرواز کرتے، شمالی بھارت میں ایندھن بھرتے اور پھر ہمالیہ کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے۔ تاہم اس گھنائونے منصوبے کی اطلاع اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل ضیاء الحق کو مل گئی اور پاکستان نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ اس کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے بھارت اور اسرائیل کو اس منصوبے سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر منیر احمد خان نے 1983ء میں ویانا میں بھارتی جوہری پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر راجہ رامنا کو خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے ایٹمی مراکز پر حملہ کیا تو پاکستان بھارت کے “ٹرمبے” جوہری مرکز پر جوابی حملہ کرے گا۔ پھر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا، حالانکہ بھارتی فوجی منصوبہ سازوں اور اسرائیلی حکام نے اس پر زور دیا تھا۔ کیونکہ اس سے صرف دو سال قبل اسرائیل عراق کی ایٹمی تنصیبات پر تباہ کن حملہ کرچکا تھا۔
اسرائیل نے 7 جون 1981ء کو بغداد کے قریب واقع “اوسیراک” (Osirak) جوہری ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا تھا، جسے “آپریشن اوپرا” (Operation Opera) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہرحال بھارت اور اسرائیل کا دفاعی تعاون اب اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکا کے بعد بھارت اسرائیل کے سب سے قریبی اتحادی ممالک کی صف کھڑا ہے۔ بھارت وہ پہلا ملک ہے جس نے 7 اکتوبر 2023ء واقعات کے بعد سب سے پہلے اسرائیل کے حق میں مظاہرے کیے۔ بھارتی ہندو شہری مظاہروں میں اپنے آپ کو اسرائیلی فوجوں کی مدد کے لیے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی خواہش کرتے نظر آئے۔ پھر بھارت کی جانب سے اسرائیل کو افرادی قوت کی فراہمی اب کوئی راز نہیں رہی۔ جس پر خود بھارتی میڈیا کی رپورٹس گواہ ہیں۔ گزشتہ برس 19 اپریل کو غزہ سے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی، جس میں اسرائیل ٹینک پر بھارتی ترنگا لہراتا نظر آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ ٹینک کرائے کے بھارتی فوجیوں کے زیر استعمال ہے، جو اہل غزہ کی نسل کشی میں صہیونیوں کے ساتھ شریک ہیں۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو راکٹ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمدات کیے ہیں اور غزہ میں اسرائیلیوں کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے بھارتی شہری “غازی زولات” کے مارے جانے کا صہیونی فوج آفشیلی طور پر اعلان کر چکی ہے۔ تالی ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اس تعاون کے بدلے میں اسرائیل نے بھی بھارت کو بہت کچھ دیا ہے۔ عرب میڈیا میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری حالیہ آپریشن سیندور میں بھی اسرائیل کا کتنا ہاتھ ہے اور وہ کس حد تک بھارت کی مدد کر رہا ہے، اس پر بحث جاری ہے۔ اسرائیلی ساختہ ڈرون طیاروں کے گرائے جانے کا معاملہ تو واضح ہوچکا ہے۔ عرب دنیا کا بلومبرگ کہلانے والے مشہور جریدے الشرق نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ آیئے اس کی رپورٹ کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہود و ہنود کا عالمی گٹھ جوڑ واضح ہوجائے۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاع اور سیکورٹی کے شعبے میں شراکت، باہمی اسٹرٹیجک مفادات کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے، اگرچہ اسے ماہرین ایک “پیچیدہ اور نازک تعلق” بھی قرار دیتے ہیں۔ کشمیر جیسے حساس اور پہاڑی علاقے میں بھارت اسرائیلی ساختہ Heron ڈرونز کا استعمال کرتا ہے، جو جاسوسی اور نگرانی کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔2008 ء سے بھارت نے اسرائیلی Tavor رائفل استعمال کرنا شروع کی۔2019 میں پلوامہ حملے کے بعد، بھارت نے پاکستان کے اندر “Spice-2000” گائیڈڈ بم استعمال کیے، جو اسرائیلی ساختہ ہیں۔ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے، جو 2008 سے 2023 تک دنیا کی کل اسلحہ درآمدات کا 10% خرید چکا ہے۔ اگلے 10 سالوں میں بھارت اپنے دفاعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے کم از کم 200 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں اسرائیل سے بھارت کو تقریباً 2.9 ارب ڈالر کا اسلحہ برآمد کیا گیا، جن میں: ریڈار سسٹمز، جاسوسی طیارے، مسلح ڈرونز اور میزائل سسٹمز شامل ہیں۔
اہم منصوبہ: باراک-8 میزائل سسٹم
دونوں ممالک “باراک-8” دفاعی میزائل سسٹم پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ بھارت اس وقت اس سسٹم کی نئی جنریشن کو اپنے دفاعی ڈھانچے میں شامل کر رہا ہے۔ یہ منصوبے بھارت کے DRDO (ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن) اور اسرائیلی دفاعی صنعت کے مشترکہ تعاون سے انجام پا رہے ہیں۔
اسرائیل بھارت کو صرف ہتھیار فراہم نہیں کررہا، بلکہ وہ اسے اسلحہ سازی میں خود کفیل بنانے کی پالیسی پر بھی گامزن ہے۔ بھارت کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ایسی شراکت داری قائم کرنا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنائے، دفاعی شعبے میں مقامی صلاحیتیں بڑھائے اور بین الاقوامی تعاون اور قومی خودمختاری میں توازن برقرار رکھے۔ اس لیے دونوں ممالک مشترکہ پیداوار پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ان کی مشترکہ پیداوار کی سب سے بڑی مثال Barak-8 میزائل سسٹم ہے۔ اسے اسرائیل کی IAI (Israel Aerospace Industries) اور بھارت کی DRDO (Defence Research and Development Organisation) نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ یہ بھارت کے فضائی دفاعی نظام میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیل بھارت کے ساتھ ڈرونز، ریڈارز، سائبر سیکورٹی، الیکٹرانک وارفیئر
جیسے شعبوں میں وسیع تعاون کر رہا ہے۔ جاسوسی کے لیے بھارتی فوج اسرائیلی ڈرونز Heron اور Searcher پر انحصار کرتی ہے۔ اس لیے اب اسرائیل یہ ٹیکنالوجی بھی بھارت کو منتقل کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں اب بھارت ڈرونز کے پرزہ جات کی مرمت، اپ گریڈیشن کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے اور مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت بھی حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ 2018 سے حیدرآباد میں Hermes 900 کی مقامی تیاری کا عمل بھی جاری ہے۔ Adani-Elbit JV کے ذریعے بھارت میں تیار کیا جا رہا ہے۔ 2023 میں بھارتی فوج نے اسے اپنے آپریشنل فلیٹ میں شامل کر لیا۔ یہ کشمیر، لائن آف کنٹرول اور سمندری حدود میں استعمال ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون دشمن کے لیے چیلنج بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بڑی بلندی پر طویل وقت تک رہ سکتا ہے اور حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی کر سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے فضائی دفاعی نظاموں (مثلاً HQ-9 یا FM-90) کے لیے یہ ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔ ریڈارز اور AWACS میں اسرائیلی مدداسرائیلی کمپنی IAI نے EL/W-2090 “Phalcon” AESA ریڈار بھارت کی تین IL-76 طیاروں میں نصب کیا ہے۔ ان طیاروں کو فضائی نگرانی اور کنٹرول سسٹم (AWACS) میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
Heron Mk2 ڈرون
بھارتی فوج نے اسرائیلی ساختہ Heron Mk2 ماڈل کے ڈرون طیاروں کو جدید دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر شامل کیا ہے۔ نومبر 2022 میں 2 ڈرونز شامل کیے گئے۔ ستمبر 2023 تک شمال مشرقی علاقوں میں مزید 2 طیارے تعینات کیے گئے۔ اگست 2023 میں بھارتی فضائیہ نے مزید 4 Heron Mk2 طیارے شامل کیے۔ نومبر 2023 میں 2 مزید یونٹس کا آرڈر دیا گیا۔ یہ بغیر پائلٹ طیارہ پینتیس ہزار فٹ بلندی پر پرواز کرسکتا ہے، رفتار 150ناٹ یعنی 278کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جو 45گھنٹے مسلسل پرواز کرکے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرسکتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ جس میں خودکار ٹیک آف اور لینڈنگ سسٹم (ATOL)، سیٹلائٹ کے ذریعے رابطہ (SATCOM)، جدید ساخت، چوڑا اور مضبوط جسم، پھر آسان مرمت اور کم وقت میں مینٹی نینس۔ Heron Mk2 میں مختلف Payloads لے جانے کی صلاحیت ہے، جیسے الیکٹرو-آپٹیکل کیمرے، ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک انٹیلی جنس (ELINT)، سگنلز انٹیلی جنس (SIGINT)، سائبر وارفیئر سسٹمز، کمیونیکیشن ریلے (ریپیٹرز) اور اسپیشل مشنز کے ماڈیولز۔ یہ طیارے اسرائیلی ایئرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) کی پیداوار ہیں اور بھارت کی دفاعی نگرانی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، خاص طور پر چین اور پاکستان سے جڑے سرحدی علاقوں میں۔
خودکش ڈرون (Loitering Munition)
Harop ڈرون کو اسرائیلی ایئرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) نے تیار کیا۔ یہ ایک ذخیرۂ متحرک (Loitering Munition) ہے، جو دشمن کے ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو ازخود نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ ڈرون ریموٹ کنٹرول سے چلتا ہے اور ٹارگٹ کے اوپر چکر لگاتا ہے، صحیح وقت پر براہِ راست ٹکر مار کر تباہی مچاتا ہے۔ مشن کے دوران منسوخ (Abort) بھی کیا جا سکتا ہے۔
کا استعمال Harop آپریشن “سِندور” میں
بھارت نے آپریشن “Sindoor” کے دوران Harop ڈرونز استعمال کر کے پاکستانی فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ لاہور میں ایک اہم دفاعی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ SkyStriker بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اس کو IAI نے بھارتی کمپنی Alpha Design Technologies کے ساتھ مل کر تیار کیا۔ یہ ڈرون 2021 میں بھارتی فوج میں شامل ہوا۔ یہ ایک انٹیلیجنٹ خودکش ڈرون ہے۔ اعلیٰ درستگی سے ہدف کو تباہ کرتا ہے۔ نقصانِ جنبی (Collateral Damage) کو کم کرتا ہے۔ الشرق نے عسکری ماہرین کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ بھارت نے SkyStriker کو بھی آپریشن “سندور” میں استعمال کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ پاکستان کے خلاف جاری جارحیت میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل ہر لحاظ سے انڈیا کی پشتیبانی کر رہا ہے۔ اس لیے امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ دونوں دشمن ممالک کے خلاف پوری قوم کا واضح اور دوٹوک مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جس میں دونوں کے مابین کوئی فرق روا نہ رکھا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








