اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ شہر خالی کرنے کیلئے 4 گھنٹے کی مہلت دیدی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ شہر خالی کرنے کیلئے 4 گھنٹے کی مہلت دیدی
اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ شہر خالی کرنے کیلئے 4 گھنٹے کی مہلت دیدی

غزہ: اسرائیل فوج کی جانب سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف بربریت کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیل نے غزہ شہر کے اندر پھنسے شہریوں کو غزہ سے نکلنے کے لئے 4گھنٹے کی مہلت دیدی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے غزہ شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے، جو کہ انکلیو کی 2.3 ملین آبادی میں سے ایک تہائی پر مشتمل ہے، اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کو کچلنے کے لئے جلد ہی اس پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہیں، جنہوں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ پر حملے کر رہا ہے، صحت کے حکام کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسرائیلی بمباری کے باعث اب تک 10,000 سے زائد بے گناہ فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جن میں سے تقریباً 40 فیصد بچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے خطے کے دورے کے آغاز پر ایک بیان میں کہا کہ ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس کی جڑ ہیں اور انسانی حقوق درد کے اس بھنور سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔”

اسرائیل نے منگل کو غزہ شہر سے نکلنے کے لیے رہائشیوں کو صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دیدی ہے، رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک زیادہ تر رات کے وقت حرکت کرتے ہیں، اسرائیلی فورسز اپنی زمینی پیش قدمی کا راستہ صاف کرنے کے لیے زیادہ تر فضائی اور توپ خانے کے حملوں پر انحصار کرتی ہیں۔

غزہ قبرستان میں تبدیل، اسرائیل کے حملوں سے 10ہزار سے زائد فلسطینی شہید

جہاں اسرائیل کی فوجی کارروائی غزہ کے شمالی نصف حصے پر مرکوز ہے، وہیں جنوب بھی حملے کی زد میں ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے شہروں خان یونس اور رفح میں منگل کو علی الصبح دو الگ الگ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔

Related Posts