اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر وحشیانہ حملوں کے دوران 92 مزید فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ سلامتی کونسل سے جنگ بندی اور عالمی برادری سے انصاف کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے علاقے رفح کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ خان یونس اور گردونواح کے علاقوں میں بھی شدید بمباری کی گئی۔ ہزاروں فلسطینیوں نے رفح کا رخ کر لیا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق رفح میں پناہ لینے والے 15لاکھ افراد بھی اسرائیلی فورسز کے نشانے پر ہیں۔ رفح سے داخل ہونے والے امدادی ٹرک بھی جنگ زدہ علاقے میں متاثرہ شہریوں تک نہیں پہنچنے دئیے جارہے۔
اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے گزشتہ 7روز میں روزانہ 35 سے کم ٹرک امداد کیلئے محصور علاقے میں داخل کیے، تاہم شمالی غزہ کو دی جانے والی امداد مسلسل بمباری کے باعث بند کردی گئی ہے۔
دنیا بھر کی مسلم آبادی نے بھی غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کیلئے آواز اٹھانے کا سلسلہ موقوف کردیا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری انتہائی خطرناک ہوچکی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ مغرب فلسطینیوں کی اموات پر آنکھیں بند کرچکا ہے۔سلامتی کونسل میں غزہ کے حق میں پیش کی جانے والی بمباری بند کرنے کی قرارداد امریکا ڈھٹائی سے ویٹو کردیتا ہے۔ یہی ان کا اصل چہرہ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی زمینی و فضائی حملوں کے نتیجے میں 29 ہزار 606 فلسطینی شہید جبکہ 69 ہزار 737 زخمی ہوئے۔ ملبے تلے دبے ہوئے فلسطینیوں کی تعداد کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








