اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کا پلان پیش کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو بی بی سی

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی شاباک کے سربراہ نے اتوار کے روز قاہرہ کا دورہ کیا اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ سے ملاقات کی۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے کی باتیں دوبارہ سے سامنے آ رہی ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ شام اسرائیلی کابینہ میں ایک نیا معاہدہ پیش کیا گیا جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کی تجویز شامل ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار “معاريف” نے بتائی۔

اخبار کے مطابق بات چیت میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ غزہ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بدلے 5 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ رہا کیا جائے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ، وزیر خارجہ یسرائیل کاتز اور وزیر انصاف یارف لیون نے اس تجویز کی حمایت کی جبکہ وزیر خزانہ بتسلیل سموترچ اور قومی سلامتی کے وزیر ایتمار گوئیر کی جانب سے اس تجویز کی مخالف سامنے آئی۔

اس سے قبل اتوار کی شام قاہرہ میں ہونے والی ملاقات میں اسرائیلی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہان نے قیدیوں سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔

اس موقع پر شاباک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے بتائی۔

گذشتہ ہفتے حماس کے سربراہ یحیی السنوار کی عظیم شہادت کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ السنوار کی شہادت کے بعد حماس تنظیم اعلان کر چکی ہے کہ فائر بندی کے معاہدے اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر قیدی ہرگز واپس نہیں جائیں گے۔

اس اعلان سے اسرائیلی حلقوں میں اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یحیی السنوار کی جگہ اس کے بھائی محمد السنوار کو حماس کا سربراہ مقرر کیے جانے اور قیدیوں کا معاملہ اس کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں معاملہ بڑی حد تک پیچیدہ ہو جائے گا۔

Related Posts