غزہ میں جاری نسل کشی کی اسرائیلی دہشت گردی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کئی دن کے پس وپیش کے بعد بالآخر اعلان کیا ہے کہ فوج “عربات جدعون” کے نام سے آپریشن کے اگلے مرحلے کا آغاز کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المیعاد منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول اور حماس کو کمزور کر کے اس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔
جنرل زامیر نے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معرکہ غیر محدود ہے اور فوج کے سامنے یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو واپس لایا جائے۔ اس کے مطابق حماس کو اب تک بھاری نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کے بیشتر وسائل ختم ہو گئے ہیں۔
صہیونی فوج کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ جنگ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پورے محور کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کے مرکزی ہدف کے طور پر ایران کا ذکر کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی کابینہ نے اس منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے تحت غزہ شہر اور مہاجر کیمپوں پر قبضے کی تیاری ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب جنگ اور محاصرہ مسلسل 22 ماہ سے جاری ہے، جس نے غزہ کو مکمل طور پر ملبے میں بدل دیا ہے۔
صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس موقع پر جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط ایک بار پھر دہرائیں۔ اس کے مطابق جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک اسرائیل غزہ پر مکمل سیکورٹی کنٹرول حاصل نہیں کر لیتا اور حماس سمیت تمام فلسطینی گروہوں کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ نیتن یاہو نے ان اسرائیلی شہریوں پر شدید تنقید کی جو قیدیوں کے تبادلے کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ جنگ بندی کے مطالبات “حماس کو مضبوط کرتے ہیں، یرغمالیوں کی رہائی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں اور 7 اکتوبر 2023 جیسے واقعات کے دہرانے کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔”
اس اعلان کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے الزيتون محلے میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ مسلسل سات دن سے جاری فضائی بمباری اور توپ خانے کے حملوں نے اس علاقے کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق صرف چند دنوں میں 400 سے زائد گھروں اور رہائشی عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں خیمے نصب کرنے کا منصوبہ “انسانی اقدام” کے طور پر ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے، لیکن حماس نے اسے “مکمل دھوکہ دہی” قرار دیا ہے۔ حماس کے مطابق یہ دراصل آبادی کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے اور ایک نئے قتل عام کی تیاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک بڑی “جنگی جرم” کی شکل اختیار کرے گا اور اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو کھلے عام روند رہا ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کا “گریٹر اسرائیل” کے قیام کا خواب فلسطین اور عرب ممالک کی زمینوں پر قبضے کے ذریعے ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس صورتحال میں امت مسلمہ پر لازم ہے کہ فلسطینی عوام اور مزاحمت کی پشت پناہی کرے، کیونکہ وہ امت کی پہلی دفاعی دیوار ہیں۔
جہاد اسلامی نے بھی اسرائیلی اعلان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے مطابق غزہ کے جنوب میں خیمے لانے کا منصوبہ “بین الاقوامی قوانین کے ساتھ کھلا مذاق” ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جبری ہجرت، بھوک اور قتل عام کی یہ پالیسی دراصل انسانیت کے خلاف ایک تسلسل ہے۔ تنظیم نے کہا کہ یہ طرز عمل صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ مغربی کنارے میں بھی قابض افواج روزانہ کی بنیاد پر چھاپے، گرفتاریوں اور حملے کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی آوازوں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ نے غزہ کو انسانی المیے میں دھکیل دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 61 ہزار 944 فلسطینی شہید، ایک لاکھ 55 ہزار 886 زخمی اور 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جبکہ قحط اور بھوک کے باعث 258 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 110 بچے شامل ہیں۔
غزہ کی صورتحال پر دنیا بھر میں تشویش بڑھ رہی ہے، لیکن اسرائیل کو امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے، جس کے باعث جنگ بندی کی تمام اپیلیں ناکام ہو رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








