ایران ٹی وی چینل پر اسرائیلی حملے،تین صحافی شہید، اینکر سحر امامی موت کے سامنے ڈٹ گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سوشل میڈیا)

اسرائیل نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے “آئی آر آئی بی” کے مرکزی ہیڈکوارٹرز پر بمباری کر کے عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ادارے سے براہ راست نشریات جاری تھیں، اور عمارت میں درجنوں صحافی موجود تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسٹوڈیو میں خاتون اینکر سحر امامی اپنے پروگرام کی میزبانی کر رہی تھیں جب اچانک زوردار دھماکا ہوا، سٹوڈیو دھوئیں سے بھر گیا اور عمارت لرز اٹھی۔

اس خطرناک صورتِ حال کے باوجود سحر امامی نے غیر معمولی حوصلے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسٹوڈیو سے محفوظ طریقے سے باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔

سحر امامی کی جرات، حملے کی ہولناکی اور میڈیا کو ٹارگٹ کرنے کی روش نے ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد سحر امامی نے کسی اور عمارت سے دوبارہ نشریات کا حصہ بن کر صحافت اور جرات کی مثال قائم کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں تین میڈیا ورکرز شہید ہوئے جن میں نیما راجپور (نیوز ایڈیٹر) اور ماصومیہ عظیمی (براڈکاسٹ سیکریٹریٹ) شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

ہ حملہ اسرائیلی وزیر دفاع کی اُس دھمکی کے کچھ ہی دیر بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ “تہران کو بھی غزہ بنا دیں گے”۔ یاد رہے کہ اسرائیل ماضی میں بھی فلسطینی علاقوں میں میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنا چکا ہے اور 178 صحافیوں کو شہید کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صحافیوں اور میڈیا دفاتر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل مہذب دنیا کی اقدار سے یکسر منحرف ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور برطانیہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اثاثے منتقل کیے جا رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل میں بھی اس وقت شدید سنسرشپ نافذ ہے، جس کی وجہ سے ایرانی حملوں کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ تاہم، تہران میں موجود متعدد سفارتی مشنز، اسپتال، پولیس دفاتر اور میڈیا ادارے ممکنہ طور پر مزید حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

Related Posts