غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے، بچوں کی یومیہ اموات جان کر ہر آنکھ اشکبار

تازہ ترین

تازہ ترین

Israeli strikes kill 75 in Gaza on Eid’s second day
ONLINE / FILE PHOTO

غزہ: اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (اونروا) کے سربراہ فلپ لازارینی نے بتایا کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعدہر روز کم از کم 100 فلسطینی بچے شہید یا زخمی ہو رہے ہیں۔

فلپ لازارینی نے اس صورتحال کو “دلخراش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی ہلاکت کو جواز فراہم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

انہوں نے یونیسیف کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سے حملے دوبارہ شروع ہوئے ہیں، ہر روز غزہ میں 100 بچوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان زندگیوں کو “اس جنگ میں ختم کیا جا رہا ہے جو بچوں کی پیدا کردہ نہیں” اور غزہ کے نوجوان شہریوں کی حفاظت کے لیے نئے سرے سے کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 15000 بچے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اس سال کے آغاز میں عارضی فائر بندی نے غزہ کے بچوں کو زندہ رہنے اور بچپن کی کچھ جھلک دیکھنے کا موقع فراہم کیاتاہم جنگ کی بحالی نے ایک بار پھر انہیں اس موقع سے محروم کر دیا ہے اور غزہ کو اب بچوں کے لیے “بے زمین” قرار دیا جا رہا ہے۔

لازارینی نے مزید کہا کہ یہ ہماری مشترکہ انسانیت پر ایک داغ ہے۔بچوں کی ہلاکت کو جہاں بھی ہو، جواز فراہم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ فوری طور پر فائر بندی بحال کی جائے۔

اس سے قبل پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران، پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ اسرائیل کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، اور حماس کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

غزہ کی مقبوضہ فلسطینی اراضی کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس الجزائر کی جانب سے پاکستان، چین، صومالیہ اور روس کے تعاون سے طلب کیا گیا۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ فلسطین کی صورتحال انسانیت کی تنزلی کی واضح مثال ہے اور بین الاقوامی برادری خاموش نہیں رہ سکتی۔

Related Posts