اسرائیلی ایوانِ اقتدار لرز اٹھا! ایرانی ہیکرز گروپ حنظلہ کی حساس فائلیں منظرِ عام پر لانے کی دھمکی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایک ایرانی ہیکرز گروپ حنظلہ نے عالمی سیاست میں ہلچل مچاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے قریبی افسر زاحی برافرمان کا ذاتی موبائل فون ہیک کر لیا ہے۔ گروہ کا کہنا ہے کہ فون میں موجود حساس معلومات کو منظر عام پر لانے کی دھمکی دی گئی ہے جس سے نہ صرف اسرائیلی قیادت بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سائبر جنگ اور خفیہ محاذ آرائی کا تازہ ثبوت ہے۔

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق خود کو حنظلہ کہلانے والے گروہ نے برافرمان کے آئی فون 16 پرو میکس کو ہیک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروہ کے مطابق یہ ہیکنگ کوئی حالیہ کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری نگرانی اور ہیکنگ کا نتیجہ ہے۔ حنظلہ گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہیں برافرمان کے فون میں خفیہ پیغامات، مالی و اخلاقی نوعیت کی فائلیں، بلیک میلنگ اور رشوت ستانی کے متعلق مواد حاصل ہو گیا ہے۔

برافرمان کو آئندہ دنوں میں برطانیہ میں اسرائیل کا سفیر مقرر کیے جانے کی توقع ہے تاہم گروہ نے دھمکی دی ہے کہ فون میں موجود معلومات شائع کی جائیں گی۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل گروہ نے متعدد اسرائیلی سیاستدانوں کے فونز ہیک کرنے کے دعوے بھی کیے تھے جن میں سابق وزیر دفاع بینی گینٹس، وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر اور کنیسٹ کی رکن تالی گوٹلیب شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گینٹس اور گوٹلیب کے فونز پہلے ہی ہیک ہوچکے ہیں، جبکہ ایتمار بن گویر اور گالانت سے متعلق معلومات نئی ہیں۔

گزشتہ ماہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کا ٹیلیگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا، جس کے نتیجے میں ان کے روابط، تصاویر اور نجی بات چیت منظرعام پر آ گئی۔ رپورٹس کے مطابق اس ہیکنگ کے دوران تقریباً پانچ ہزار رابطوں کی فہرست لیک ہوئی جن میں سکیورٹی اور سیاسی عہدیدار، صحافی اور ایلیٹ یونٹس کے اہلکار شامل ہیں۔

حنظلہ گروہ کا نام فلسطینی کارٹون کردار سے ماخوذ ہے جسے 1969 میں شہید فنکار ناجی العلی نے تخلیق کیا تھا اور یہ کردار فلسطینی شعور میں مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی حکومت نے متعدد مواقع پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزامات میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا، جبکہ تہران نے ان دعوؤں پر خاموشی اختیار کی۔ جون 2025 میں اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ ایران کے خلاف بارہ روزہ جنگ کی، جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا اور بعد ازاں امریکہ نے فائر بندی کا اعلان کیا۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ نئی محاذ آرائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیر کو فلوریڈا میں نیتن یاھو سے ملاقات متوقع ہے۔ نیتن یاھو اس وقت بین الاقوامی فوجداری عدالت کے تحت مطلوب ہیں جہاں ان پر 8 اکتوبر 2023 سے غزہ پٹی پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد ہیں۔

Related Posts