اسرائیلی صحافی اور ڈائریکٹر یوفال ابراہام نے ایک سنسنی خیز انکشاف میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس نے غزہ میں صحافیوں کو نشانہ بنانے اور ان کے قتل کو ’’جائز‘‘ قرار دینے کے لیے ایک خفیہ سیل تشکیل دیا ہے۔
یہ انکشاف اسرائیلی ویب سائٹ “972” پر شائع رپورٹ اور یوفال کی سوشل میڈیا پوسٹس میں سامنے آیا، ان کے مطابق یہ سیل 7 اکتوبر 2023 کے بعد قائم کیا گیا اور اس کا نام ’’لیجٹمائزیشن سیل‘‘ رکھا گیا۔ اس ٹیم کا بنیادی مقصد ایسی معلومات اکٹھی کرنا ہے، جو اسرائیلی فوج کی غزہ میں کی جانے والی کارروائیوں، خصوصاً صحافیوں کے قتل کو قانونی یا اخلاقی جواز فراہم کر سکے۔
یوفال کا کہنا ہے کہ اس سیل نے خاص طور پر ایسے صحافیوں کی تلاش شروع کی جنہیں میڈیا میں حماس کے خفیہ کارکن کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ یوفال نے لکھا کہ انہوں نے صحافیوں کا پیچھا کیا، کئی دن لگاتار کھوج میں رہے، مگر کسی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکا۔ اس تمام کوشش کا مقصد صرف یہ تھا کہ مجموعی طور پر صحافیوں کے قتل کو ’’جائز‘‘ دکھایا جا سکے۔
اسرائیلی صحافی یوفال کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل غزہ میں تقریباً 230 صحافیوں کو قتل کر چکا ہے اور اسی مقصد کے تحت غیر ملکی میڈیا کو غزہ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے تاکہ دنیا کم سے کم اسرائیلی جرائم دیکھ سکے۔
یوفال نے اپنی ایک اور پوسٹ میں انکشاف کیا کہ گزشتہ رات اسرائیلی فوج نے غزہ میں چار صحافی قتل کیے۔ اسرائیلی صحافت نے بڑے پیمانے پر قتل، بھوک سے موت اور نسل کشی کو معمول بنا دیا ہے، اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے غداری کی ہے اور یہ غداری اب بھی جاری ہے۔
انس الشریف کے قتل کی پلاننگ
اسرائیلی صحافی یوفال نے خاص طور پر الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے ان پر حماس میں شامل ہونے کا الزام لگایا، جیسا کہ اس نے پہلے حمزہ الدحدوح پر اسلامی جہاد کا رکن ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
یوفال کے مطابق اسرائیلی فوج کے عرب ترجمان اوچائے ادرعی کا الزام بے بنیاد تھا اور اس جیسے دعوؤں پر آنکھ بند کر کے یقین کرنا صحافتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یوفال کا کہنا ہے کہ وہ صحافی جو اس مرحلے پر فوجی ترجمان کے بیانات پر سوال نہیں اٹھاتا، ان گنت جھوٹ سامنے آنے کے بعد بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے غداری کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فرض کریں یہ الزام درست بھی ہو، تب بھی اسی منطق کے تحت اسرائیل میں بھاری اکثریت ایسے صحافیوں کی ہے جن کے بارے میں اگر کوئی دستاویز مل جائے کہ وہ فوج میں تھے یا ریزرو فورس میں خدمات انجام دے چکے ہیں، تو وہ بھی ’جائز‘ ہدف سمجھے جائیں گے۔
یوفال نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ انس الشریف کو اسی وقت کیوں قتل کیا گیا جب ان کی جگہ مہینوں سے معلوم تھی۔ اس کا جواب انہوں نے خود ہی دیا: ’’یہ واضح ہے، غزہ پر قبضے کے منصوبے کو حتمی شکل سے ایک دن قبل۔‘‘
اتوار کی شام یہ المناک سلسلہ اس وقت مزید طویل ہو گیا جب غزہ میں مجمع الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے قریب الجزیرہ کے عملے کے خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں انس الشریف اور الجزیرہ کے ایک اور نمائندے محمد قریقع شہید ہو گئے۔ اس حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 236 ہو گئی ہے اور یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں صحافیوں کی سلامتی اور آزادیٔ صحافت پر ایک سنگین سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں۔
یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ غزہ میں صحافی محض خبر دینے والے نہیں بلکہ خود ایک مسلسل خطرے کا شکار ہدف ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کی حکمت عملی اور فوجی کارروائیوں کے جواز پیدا کرنے کی کوشش نہ صرف صحافت کی آزادی بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے اصولوں کو بھی چیلنج کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








