چند روز سے منظر عام سے غائب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے ایرانی حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
ایرانی اور دیگر ممالک کے خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی آخری ویڈیو تقریباً تین دن پہلے اور تصاویر چار دن پہلے شائع ہوئی تھیں جس کے بعد ان کی سلامتی کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی بتایا کہ نیتن یاہو کے ایرانی حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں۔ متعدد عبرانی ذرائع کے مطابق 8 مارچ کو وزیراعظم کے گھر کے ارد گرد سیکیورٹی بڑھا دی گئی تھی خاص طور پر ممکنہ خودکش ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو ممکنہ طور پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عالمی سطح پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آیا نیتن یاہو محفوظ ہیں یا نہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بھائی ایڈو بھی ایرانی حملے میں ہلاک ہو گئے اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر شدید زخمی ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا کے تجزیہ کاروں نے ان افواہوں کو رد کیا۔ چینل 12 کے اَمیت سیگال نے کہاکہ یہ جھوٹی خبر ہے۔
یروشلم کے مقامی حکام نے تصدیق کی کہ سائرن بجائے گئے لیکن وزیراعظم کے دفتر کے قریب کوئی دھماکہ نہیں ہوا اور نہ ہی زخمی یا نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








