اسرائیل کے شہر نیتانیا کے قریب ایک چونکا دینے والے واقعے میں ایک کار سوار نے بس اسٹاپ پر کھڑے اسرائیلی فوجیوں پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 8 فوجی زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ اسرائیلی فوج کی سکیورٹی انتظامات میں ناکامی کی ایک اور واضح مثال ہے جو خطے میں مسلسل کشیدگی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، حملہ آور گاڑی کو بیت لید کے علاقے میں چھوڑ کر فرار ہوگیا، اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، لیکن اب تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے تمام افراد اس کے فوجی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج اپنے اہلکاروں کی حفاظت تک نہ کر سکی۔
پولیس اور شن بیت سکیورٹی ایجنسی کے مطابق گاڑی کا مالک ایک اسرائیلی شہری ہے لیکن حکام نے گاڑی کے چوری شدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے جو ان کے ناقص سکیورٹی نظام کی ایک اور کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس واقعے کو فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی فوج کے مسلسل مظالم اور جابرانہ پالیسیوں کا فطری ردعمل قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ اسرائیلی فوج کی جارحانہ حکمت عملیوں اور مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عوامی غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر اسرائیلی فوج کی ناقص کارکردگی اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے میں ناکامی کو عیاں کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








