غزہ: حالیہ قیدیوں کے تبادلے میں رہائی پانے والے اسرائیلی فوجی ماتان اینگرسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ دورانِ قید فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے اُس کے ساتھ غیر معمولی انسانی سلوک کیا اور اُس کی مذہبی ضروریات کا نہ صرف مکمل خیال رکھا بلکہ اسے یہودی عبادت کے لوازمات بھی فراہم کیے۔
اسرائیلی سرکاری خبر رساں ادارے گورنمنٹ پریس آفس کے مطابق ماتان اینگرسٹ نے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دورانِ قید اُس نے فلسطینی مزاحمت سے درخواست کی تھی کہ اسے تفیلن (وہ چمڑے کا مخصوص ٹکڑا جو یہودی عبادت کے دوران پیشانی پر باندھا جاتا ہے)، کتابِ صلوات (سیدور) اور تورات فراہم کی جائے۔
اینگرسٹ کے مطابق ق،، ام نے اس کی یہ تمام درخواستیں قبول کیں اور مطلوبہ مذہبی اشیاء اُسے ان مقامات سے فراہم کی گئیں جو ماضی میں اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ رہ چکے تھے۔ اُس نے بتایا کہ وہ روزانہ تین بار زیرِ زمین سرنگوں میں عبادت کرتا تھا اور کئی مرتبہ اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران بمباری سے بال بال بچا۔
اینگرسٹ نے اعتراف کیا کہ ق،،ام نے دورانِ قید اُس کی جان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا حتیٰ کہ وہ خود اسرائیلی فضائی حملوں کے خطرات کے باوجود قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے رہے۔
فلسطینی مزاحمت کی جانب سے بھی ماضی میں یہ موقف بارہا سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی فضائی کارروائیاں اُن اسرائیلی قیدیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہیں جو مزاحمت کے زیرِ حراست ہیں۔
ماتان اینگرسٹ کے اس بیان نے اسرائیلی سرکاری بیانیے میں ایک نمایاں تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حالیہ قیدیوں کے تبادلے میں اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں نے اس کے برعکس اذیت ناک حالات، مسلسل تشدد، طبی غفلت اور غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
یوں ایک اسرائیلی فوجی کی گواہی نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے زیرِ قبضہ قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جاتا ہے جبکہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کو ظلم و اذیت کا سامنا رہتا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف اسرائیلی پروپیگنڈے کو چیلنج کرتا ہے بلکہ انسانی اقدار کے دوہرے معیار کو بھی واضح طور پر سامنے لاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








