فوجی بھرتی سے بچنے کیلئے اسرائیلی نوجوانوں کا ملک سے فرار شروع، پکڑنے کیلئے ایئر پورٹ فوجی چھاؤنی میں تبدیل

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عبرانی میڈیا

اسرائیلی چینل 12 نے انکشاف کیا ہے کہ قابض صہیونی فوج 40 ہزار سے زائد مذہبی یہودیوں (حریدیم) کے خلاف گرفتاری مہم شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو یوکرین کے شہر اومان کا سفر کرنے والے ہیں تاکہ یہودی نئے سال کی تعطیلات میں وہاں مدفون ربی نحمان کی قبر پر حاضری دے سکیں۔
چینل کے مطابق ان میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو لازمی فوجی سروس سے بھاگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ بین گوریون ایئرپورٹ پر فوجی پولیس کی بھاری نفری تعینات کرے گی تاکہ ان مفروروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افراد فوجی خدمت سے 540 دن تک فرار میں رہے ہیں، انہیں فوجی پولیس کے حوالے کر کے لازمی بھرتی کے مراحل شروع کیے جائیں گے، جبکہ جن کا فرار اس مدت سے کم ہے، انہیں جیل بھیجا جائے گا۔
قابض فوج کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ بیرونِ ملک سے اسرائیل آنے والے حریدیوں کو بھی گرفتار کیا جائے، کیونکہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کئی ماہ یا برسوں تک فوجی سروس سے فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہ اقدام حریدی برادری میں سخت غصے کو ہوا دے سکتا ہے۔ اسی تناظر میں لیتھوانیائی حاخام “لاندو” نے رواں ماہ کے آغاز میں حکام کو دھمکی دی تھی کہ اگر حریدیوں کو جبراً فوج میں بھرتی کیا گیا تو وہ بھرپور طاقت اور جوش و خروش کے ساتھ دنیا کو ہلا ڈالیں گے اور حکام کو دنیا بھر کے متحدہ حریدی یہودیوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حریدیم اسرائیل کی کل آبادی کے تقریباً 13 فیصد ہیں، جو کہ دس ملین افراد پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ فوجی خدمت سے اس بنیاد پر انکار کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی تورات کی تعلیم کے لیے وقف کرتے ہیں اور یہ کہ سیکولر معاشرے میں ضم ہونا ان کی مذہبی شناخت کے لیے خطرہ ہے۔
طویل عرصے سے حریدیم نوجوان 18 سال کی عمر میں فوجی خدمت سے بچنے کے لیے بار بار مہلت حاصل کرتے رہے ہیں، یہ جواز پیش کرتے ہوئے کہ وہ مذہبی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جس کے بعد انہیں قانونی طور پر فوجی سروس سے استثنا مل جاتا ہے، جو فی الحال 26 سال ہے۔

Related Posts