غلطی سے سرحد پار کرنے والے پاکستانی کو انڈیا سے وطن واپس پہنچنے میں برسوں لگ گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

 سندھ کے ضلع بدین کے علاقے گولارچی میں آباد بھیل برادری سے تعلق رکھنے والے پورا بئی بھیل کا کہنا ہے کہ غلطی سے سرحد عبور کرنے کی ایسی سزا ملی کہ سزا پوری ہونے پر رہائی کے بجائے انڈیا میں ایک اور جیل بھیج دیا گیا اور وطن واپسی میں برسوں لگ گئے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا قصور صرف اتنا تھا کہ ہم پاکستانی تھے۔‘

انڈیا سے رہا ہو کر پاکستان پہنچنے والے 40 سالہ پورا بئی بھیل نے بتایا کہ چار سال قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرا تھرپارکر کے علاقے ننگر سے اس نے غلطی سے سرحد عبور کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

وہ کونسے ممالک ہیں جن سے امریکا بھی قرض لیتا ہے؟

پورا بئی بھیل کے مطابق جب انہوں نے سرحد عبور کی تو پاکستانی لباس شلوار قمیص پہنی تھی جسے دیکھ کر انڈین بارڈر فورس نے بلایا اور سوال جواب کیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بارڈر فورس کے اہلکاروں نے کہا کہ اگر اپنے بارے میں سچ بتاؤ گے تو چھوڑ دیں گے۔‘

پورا بئی بھیل کے مطابق ’میں نے اپنے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتایا کہ پاکستانی ہوں، سندھ سے میرا تعلق ہے اور گولارچی کا رہنا والا ہوں، شاید غلطی سے بارڈر پار کرکے انڈیا میں آ گیا ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ بارڈر فورس نے مکمل معلومات لینے کے بعد مجھے چھوڑنے کے بجائے انڈین پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے مجھ پر کیس بنایا اور عدالت میں پیش کیا جہاں مجھے دو سال کی سزا اور چار ہزار کا جرمانہ ہوا۔

پورا بئی بھیل نے بتایا کہ ’میں نے دو سال کی سزا کاٹی اور چار ہزار جرمانہ نہ دینے کی وجہ سے مجھے مزید سزا گزارنا پڑی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب جرمانے کی سزا کا وقت بھی پورا ہوا تو مجھے امید ہوئی کہ شاید اب میں اپنے ملک پاکستان جا سکوں گا۔ مجھے ایک روز سینٹرل جیل سے نکال کر ایک اور جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب جیلر سے پوچھا کہ میری سزا تو پوری ہوگئی مجھے اب کیوں قید میں رکھا جا رہا ہے تو جواب ملا کہ اس جیل میں سزا پوری کرنے والے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔‘

جیل کے حالات بیان کرتے ہوئے پورا بئی بھیل نے کہا کہ ’قید میں ٹی وی، اخبار سمیت کسی طرح کی سہولت نہیں تھی۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ عید گزری، تہوار گزرے گھر والوں کی یاد آتی تھی۔ لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ بے بسی میں وقت گزار رہے تھے۔‘

پورا بئی بھیل نے بتایا کہ ’جیلر اور ساتھ موجود قیدیوں سے بار بار رہائی کے بارے میں پوچھتا تھا۔ وہ کہتے تھے ہم یہاں کئی کئی سال سے ہیں تم تو ابھی آئے ہو کہاں سے ابھی رہائی ملنی ہے۔ ایسے میں ایک دن جیلر نے بتایا کہ پاکستان نے 198 انڈین قیدی چھوڑ دیے ہیں۔ اب پاکستان کے قیدی بھی رہا کیے جائیں گے۔‘

’میں یہ سوچھتا تھا کہ میں تو رہا نہیں ہو سکوں گا کیونکہ یہاں تو کتنے سالوں سے لوگ قید ہیں، وہی جائیں گے میرا نمبر تو کتنے سال بعد ہی آئے گا، لیکن جیلر نے بتایا کہ مجھے میں چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ لمحہ میرے لیے بیان کرنا ممکن نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ہم نے لاہور انڈیا کا بارڈر پار کیا اور پاکستانی لوگوں کے پاس آئے تو سکون کا سانس لیا۔ ابھی یہاں کراچی تک آ گئے ہیں، ایدھی والوں نے سامان اور گھر جانے کا انتظام کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ملک کی جیلوں میں قید 500 انڈین قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا۔ اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس میں شرکت سے قبل پہلے مرحلے میں 200  انڈین ماہی گیروں کو رہا کرکے انڈیا بھیجا گیا تھا۔

Related Posts