جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ حکومت کے سامنے رکھے جانے والے 10 مطالبات بھی سامنے آگئے۔
جماعت اسلامی کا مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بھاری ٹیکسوں کے خلاف راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔ مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی لیاقت بلوچ کریں گے۔
جماعت اسلامی کے حکومت کے سامنے رکھے جانے والے 10مطالبات سامنے آگئے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دے اور پیٹرولیم لیوی ختم اور قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لے۔
جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی لائی جائے، اسٹیشنری آئٹمز پر لگائے گئے ٹیکسز فوری ختم کیے جائیں۔
جماعت اسلامی کا مزید مطالبہ ہے کہ حکومتی اخراجات کم کرکے غیر ترقیاتی اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگایا جائے، کیپسٹی چارجز اور آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائی کا معاہدہ ختم کیا جائے اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔
جماعت اسلامی نے مطالبہ رکھا کہ زراعت اور صنعت پر ناجائز ٹیکس ختم اور 50 فیصد بوجھ کم کیا جائے، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کویقینی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ختم اور مراعات یافتہ طبقےکو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








