دینی و سیاسی دنیا ایک عظیم رہنما سے محروم، پروفیسر ساجد میر انتقال کرگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

Jamiat Ahle Hadees Chief Maulan Sajid Mir passes away
FILE PHOTO

لاہور: مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے امیر، ممتاز دینی اسکالر اور سینئر سیاستدان پروفیسر ساجد میر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، ان کی عمر 85 برس سے زائد تھی۔ مرحوم کچھ عرصے سے علیل تھے اور لاہور میں زیرِ علاج تھے۔

پروفیسر ساجد میر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار دینی و علمی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی اسلامی تعلیم، قرآن و سنت کی ترویج، بین المسالک ہم آہنگی، اور پارلیمانی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ساجد میر 1939 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک دینی و علمی گھرانے سے تھا۔ بچپن میں والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، جن کی خواہش پر انہوں نے رسمی تعلیم ترک کر کے قرآنِ کریم حفظ کیا۔ 1963ء میں پہلی مرتبہ تراویح کی نماز میں قرآن سنایا۔ بعد ازاں، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سمیت مختلف دینی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔

پروفیسر ساجد میر کئی سالوں تک گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ اسلامیات سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں وہ کچھ عرصے کے لیے نائیجیریا چلے گئے جہاں انہوں نے 1980 کی دہائی میں اسلامک اسٹڈیز کی تدریس انجام دی۔ 1985 میں وہ پاکستان واپس آئے۔

پروفیسر ساجد میر 1986 میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر منتخب ہوئے، اور تاحیات اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے معروف اور متفقہ رہنما سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے ہمیشہ انتہا پسندی، فرقہ واریت، اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کی۔

سیاسی میدان میں ان کا سفر 1994 میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر شروع ہوا، جب وہ پہلی بار پنجاب سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں وہ 2000، 2006، 2012 اور 2018 میں بھی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور، اقلیتی حقوق، اور خارجہ پالیسی سمیت کئی اہم پارلیمانی کمیٹیوں کے رکن اور چیئرمین رہے۔

وہ قومی اسمبلی، سینیٹ، اور اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی دینی امور پر مدلل موقف اور علمی گفتگو کے حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

پروفیسر ساجد میر نے او آئی سی، سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا، مصر، اور دیگر مسلم ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ بین المذاہب مکالمہ، عالمی اسلامی اتحاد، اور کشمیر و فلسطین کے حق میں بھی مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔

مرحوم گزشتہ چند برسوں سے مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔ لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 3 مئی 2025 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات جلد مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ذریعے اعلان کیے جائیں گے۔

Related Posts