ہمارے نظامِ شمسی میں زمین کے بعد آنے والے سیارے مریخ پر زندگی کی تلاش جاری ہے جس میں جاپان بھی حصہ ڈالنے کو تیار ہوگیا۔ جاپانی خلائی ایجنسی نے مریخ کی طرف خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
علمِ فلکیات کے ماہرین کے مطابق مریخ کی طرف خلائی مشن بھیجنے کا مقصد درحقیقت زندگی کی تلاش ہے اور اگر زندگی نہ ملے تو بے آب و گیاہ سیاروں پر پانی ضرور تلاش کیا جاتا ہے۔
فلکیات کے ماہرین کے مطابق مریخ پر اب تک پانی کے آثار تو ضرور ملے لیکن وہ پانی ٹھوس یعنی برف کی صورت میں موجود ہے۔ مریخ پر بڑی بڑی جھیلوں کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔
جے اے ایکس نامی جاپانی خلائی ایجنسی بھی زندگی کی تلاش کے لیے مریخ کی طرف جانا چاہتی ہے۔ جاپانی خلائی ایجنسی مریخ کے دو چاندوں سے پتھر زمین پر لانا چاہتی ہے۔
فوبوس اور ڈیموس نامی مریخ کے دو چاند انسان کے شوقِ تجسس کو ہوا دے رہے ہیں جس کے تحت جاپانی خلائی ایجنسی نے 2024ء میں خلائی مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
زمین سے مریخ تک تیز تر خلائی سفر کروڑوں کلومیٹر پر محیط ہے جس میں یکطرفہ طور پر خلائی مشنز کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ ایسے مشنز دو دو سال کے وقفے سے ہی بھیجے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ زمین اور مریخ دونوں ہی سیارے حرکت میں ہیں جبکہ سورج کے گرد چکر لگانے کے دوران ایسا موقع 2 سال میں ایک بار آتا ہے جب یہ دونوں قریب آتے ہیں۔
خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ہم مریخ کے ہر چاند سے پتھر زمین پر لائیں گے تاکہ زندگی کی تلاش کے سفر میں مزید معلومات مل سکیں۔ اس سے کائنات کے ان گنت راز منکشف ہوسکتے ہیں۔