اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کردی۔
جے سی پی نے جسٹس عائشہ اے ملک کی نامزدگی کی منظوری دی جس کے پانچ ارکان نے اس اقدام کی حمایت کی اور چار نے مخالفت کی۔
کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق اور پی بی سی کے نمائندے نے جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ میں نامزدگی کی شدید مخالفت کی۔
پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بن جائیں گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان (جے سی پی) کا ستمبر میں ہونے والا اجلاس جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جے سی پی کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا کیونکہ جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کے طور پر تقرری پر ووٹوں کی گنتی برابری پر ختم ہوئی۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون فروغ نسیم نے حق میں ووٹ دیا جب کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق، جسٹس (ریٹائرڈ) دوست محمد خان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے نے ووٹ دیا۔