اسلام آباد: متنازع ٹوئٹ پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کو 14 روز کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست منظور کر لی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہم نے تفتیش مکمل کر لی ہے مزید اعظم سواتی کی ضرورت نہیں، ریمانڈ ختم ہونے سے قبل ہی اعظم سواتی کو جوڈیشل کرنے کی درخواست دی۔
واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پاس پی ٹی آئی رہنماء اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ ہفتہ کے روز مکمل ہو رہا تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ نے تین دسمبر تک 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے جمعرات کو سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کو سیاسی مقدمے میں گرفتار کرنے کے خلاف از نوٹس لے۔
درخواست میں اعظم سواتی کی ”غیر قانونی گرفتاری” اور ”ان کے گھر کی رازداری کی خلاف ورزی” پر فوری نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔
اعظم سواتی کو اتوار کو دو ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار متنازعہ ٹویٹس پر گرفتار کیا گیا تھا۔
انہیں اس سے قبل 13 اکتوبر کو مختلف ٹویٹس پر گرفتار کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا نام لیا تھا۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعظم سواتی کو ان کی اہلیہ اور بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ساتھ ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حراست کے دوران بھی انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما کے وکیل بابر اعوان نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد بشیر کو آگاہ کیا کہ سینیٹر اعظم سواتی کو عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے کیونکہ انہیں سماعت کے موقع پر جان کے خطرات کا سامنا ہے جس پر اعظم سواتی حاضر نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کا اعظم سواتی کی گرفتاری کا ازخود نوٹس لینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع
مزید برآں، شیریں مزاری نے اعظم سواتی کی حراست کے بعد اکتوبر میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو کھلے خط بھیجے تھے، جس میں ان کی رہائی کی درخواست کی گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








