مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئے۔ وہ دو ہفتے قبل اپنے ہی بیٹے کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنے تھے جس کے باعث شدید زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ تقریباً دو ہفتے قبل مالاکنڈ میں پیش آیا تھا جب مفتی کفایت اللہ کے بیٹے معتصم باللہ نے گھریلو تنازع کے دوران اچانک فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں نہ صرف مفتی کفایت اللہ شدید زخمی ہوئے بلکہ ان کے خاندان کے تین افراد دو بیٹیاں اور ایک بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔
مفتی کفایت اللہ کو تشویشناک حالت میں اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ مسلسل زیرِ علاج رہے تاہم زخموں کی شدت اور حالت بگڑنے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد معتصم باللہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری ہیں۔ تاحال حملے کی مکمل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ گھریلو ناچاقی کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔
مفتی کفایت اللہ جے یو آئی (ف) کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کی موت پر مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلات جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








