مشہور فلمی سلسلے جراسک پارک کا نیا حصہ جراسک ورلڈ ری برتھ بالآخر ریلیز ہو چکا ہے اور مداحوں میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ آیا یہ فلم پرانے جادو کو واپس لا پائے گی یا نہیں؟
گزشتہ فلم جراسک ورلڈ ڈومینین کو مداحوں کی جانب سے خاص پذیرائی نہیں ملی تھی جس کے بعد یونیورسل پکچرز نے وعدہ کیا تھا کہ نیا حصہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹے گا، یعنی پہلے جراسک پارک جیسا ماحول، سنسنی اور کہانی۔
کہانی کا خلاصہ:
یہ فلم پچھلی قسط کے پانچ سال بعد کی دنیا دکھاتی ہے، جہاں تمام ڈایناسور دنیا سے ختم ہو چکے ہیں، سوائے ان چند کے جو ایک گرم و مرطوب علاقے میں موجود ہیں جو ماقبل تاریخ کے ماحول جیسا ہے۔
مرکزی کردار زورا بینیٹ (اسکارلٹ جوہانسن) ادا کر رہی ہیں، جو ایک سخت گیر کرائے کی سپاہی ہے، جسے دنیا میں بچے ہوئے تین سب سے بڑے ڈایناسورز کا ڈی این اے حاصل کرنے کے مشن پر بھیجا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھی ڈنکن (ماہرشالا علی) اور ہنری (جوناتھن بیلی) بھی شامل ہیں جو ایک ڈایناسور ماہر ہے۔
مشن اس وقت الجھ جاتا ہے جب ان کا سامنا ایک خاندان سے ہوتا ہے جو غلطی سے ڈایناسورز کے خطرناک جزیرے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ یہاں سے کہانی ایک سادہ مہم سے نکل کر ایک سنسنی خیز بقا کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
فلم کی خوبیاں:
اس فلم کی سب سے بڑی خوبی اس کی محدود جگہ پر مرکوز کہانی ہے۔ فلم کے ہدایت کار گیرتھ ایڈورڈز (جنہوں نے “روگ ون” بنائی تھی) نے کہانی کو ایک مقام پر مرکوز رکھا، جو فلم کو پرانے جراسک پارک جیسا احساس دیتا ہے، جہاں ماحول، تناؤ، اور ڈایناسورز کی دہشت مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
اسکارلٹ جوہانسن کا ایکشن کردار مضبوط ہے، اگرچہ کہانی انہیں مکمل مواقع فراہم نہیں کرتی۔ ماہرشالا علی نے اپنے جذباتی مناظر میں بہترین اداکاری دکھائی، خاص طور پر وہ مناظر جن میں وہ اپنے بیٹے کے نقصان سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔
جوناتھن بیلی نے ہنری کے کردار میں شاندار کارکردگی دکھائی اور ان کے کئی مناظر فلم کے یادگار لمحوں میں شامل ہیں۔ڈایناسورز کے حملے کے مناظر میں تناؤ اور خوف موجود ہے، جو ناظرین کو کئی بار چونکا دیتا ہے۔
فلم کی خامیاں:
بدقسمتی سے فلم میں کامیابیوں سے زیادہ ناکامیاں ہیں۔ سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ فلم کے مرکزی کردار کئی منٹوں تک غائب رہتے ہیں اور ان کی جگہ ایک بور خاندان کو مرکز بنا دیا جاتا ہے جس سے ناظرین کی کوئی جذباتی وابستگی نہیں بنتی۔
ڈایناسورز کی تخلیق بھی مایوس کن ہے۔ بجائے اس کے کہ کلاسیکی ٹی ریکس یا ویلاسیریپٹرز دکھائے جاتے، فلم میں عجیب و غریب نئی اقسام کے ہائبرڈ جانور شامل کیے گئے ہیں جو کسی ویڈیو گیم کے خیالی کردار لگتے ہیں۔
ان میں سے ایک تو ایسا لگتا ہے جیسے ٹی ریکس اور کسی خلائی مخلوق کا امتزاج ہو، جو نہ صرف غیرحقیقی لگتا ہے بلکہ پرانے شائقین کے لیے مایوسی کا باعث بھی بنتا ہے۔
ایکشن مناظر بھی متوقع اور پیش گوئی کے قابل ہیں، یعنی ناظرین آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون بچے گا اور کون نہیں۔ کہانی میں کوئی بڑا خطرہ یا حیران کن موڑ نہیں، جو فلم کو نیا پن دیتا۔
کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے؟
جراسک ورلڈ ری برتھ ایک درمیانے درجے کی فلم ہے جو بہت بہتر بن سکتی تھی۔ اگرچہ یہ “ڈومینین” سے بہتر ہے، لیکن یہ پرانے جادو کو بحال نہیں کر سکی۔ باصلاحیت اداکاروں نے کمزور کہانی میں اپنی بھرپور کوشش کی، مگر کمزور مکالمے اور غیرمتاثر کن منظرنامے انہیں بھی محدود کر دیتے ہیں۔
اگر آپ ڈایناسورز کے پرانے مداح ہیں تو یہ فلم ایک بار دیکھنے کے قابل ہو سکتی ہے، لیکن یہ وہ جادو نہیں لاتی جو پہلی فلموں میں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ فلم صرف اس لیے بنائی گئی کہ سلسلہ جاری رکھا جائے، نہ کہ کوئی ایسی کہانی سنائی جائے جو واقعی سنانے کے قابل ہو۔
یہ فلم ایک ضائع شدہ موقع ہے، جو اچھے اداکاروں اور بڑے بجٹ کے باوجود متاثر کن کہانی نہ ہونے کے باعث اپنا اثر کھو بیٹھتی ہے۔ اگر جراسک ورلڈ کو واقعی نیا جنم دینا ہے، تو اسے ایک طویل وقفے اور نئے تخلیقی وژن کی ضرورت ہے۔
درجہ بندی: 5 میں سے 2اعشاریہ 5 ستارے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








