جمعہ کے روز ایک شاندار اور پروفیشنل تقریب کے دوران جسٹس امین الدین خان نے باضابطہ طور پر پاکستان کی نئی وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا۔ یہ اہم اور باضابطہ تقریب ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کی موجودگی میں ہوئی، جس سے اس نئی عدالتی ادارے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے اراکین، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور پاکستان نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین اور اٹارنی جنرل نے بھی اس باضابطہ تقریب میں شرکت کی۔
حلف برداری کے بعد چیف جسٹس امین الدین خان آئندہ چند دنوں میں وفاقی آئینی عدالت کے چھ نئے ججوں کو حلف دلانے کے فرائض انجام دیں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کا قیام پاکستان کی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نومبر 2025 میں عمل میں آیا، جس نے اعلیٰ عدلیہ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی اور آئینی عدالت کو ایک خصوصی عدالتی ادارے کے طور پر تشکیل دیا، جو آئینی معاملات کے فیصلے کرے گا جبکہ اس سے قبل یہ ذمہ داری زیادہ تر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








