کراچی: ملک بھر میں بجلی کے صارفین کے لئے ایک اور بری خبر سامنے آگئی، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور کے الیکٹرک نے نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے تحت ٹیرف میں 11.39 روپے مزید اضافے کا مطالبہ کردیا ہے۔
درخواست کے مطابق کراچی کے صارفین کو بجلی فراہم کرنے والے واحد ادارے نے جون 2022 کے لیے 11.39 روپے کے بڑے اضافے کی درخواست کی ہے۔
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے نے بجلی کے نرخوں میں 9 روپے 90 پیسے اضافے کی درخواست کی ہے۔ یہ اضافہ جون کے مہینے کے اکاؤنٹ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ پر کیا گیا ہے۔
نیپرا دونوں درخواستوں کی سماعت 28 جولائی کو کرے گا۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بدھ کو کہا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کا کہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ چھوٹے صارفین پر بوجھ نہ پڑے اور 60 فیصد صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
اس سے قبل نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے بنیادی نرخوں میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔
الیکٹرک پاور ریگولیٹر سماعت کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کرے گا اور اپنے فیصلے کو نوٹیفکیشن کے لیے حکومت کو بھیجے گا۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کا دفاع کرتے ہوئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے بدھ کو کہا کہ تین سال پہلے کے مقابلے میں ایندھن کی قیمت میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔
اپنے بیان میں چیئرمین نیپرا نے کہا کہ 2018 میں درآمدی کوئلے کی قیمت 50 ڈالر فی ٹن تھی جو اب 400 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ملک میں ایندھن کے نرخوں میں اضافے کا ایک اور عنصر ہے۔
بجلی کی پیداواری لاگت میں 1600 فیصد اضافہ ہوا، اُن کا کہنا تھا کہ صارفین نہیں تو قیمت کون ادا کرے گا؟
مزید پڑھیں:دکانوں کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس، تاجر برادری کا سخت رد عمل سامنے آگیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








