کراچی بورڈ نے انٹر کے نتائج روک دیے، معاملات سنگین ہونے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی انتظامیہ نے انٹر سال اول  کامرس 2023 کے 7 ماہ قبل منعقدہ امتحانات کے نتائج انتہائی خراب تناسب ہونے کے سبب روک دیے ہیں۔ 

بتایا جارہا ہے کہ انٹر سال اول کے نتائج کا تناسب بمشکل 31 فیصد ہے جو گزشتہ امتحانات سال 2022 کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم ہے،  بورڈ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اگر یہ نتائج جاری ہوگئے تو بحرانوں میں گھرے ہوئے بورڈ میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا،  پھر ایک اور پینڈورا بکس کھل سکتا ہے جبکہ کامرس ریگولر کے ہزاروں طلبا احتجاج کا راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

 موقر معاصر ایکسپریس کے مطابق انٹر سال اول کامرس ریگولر کے گزشتہ نتائج 2022 کا تناسب تقریباً 47 فیصد تھا اور تقریباً 40 ہزار طلبا ان امتحانات میں شریک ہوئے تھے جبکہ اس بار انٹر سال اول کے سالانہ امتحانات 2023 میں تقریباً 38 ہزار طلبا شریک ہوئے ہیں اور ان نتائج کی تیاری کے بعد انتہائی گمبھیر صورتحال سامنے آئی ہے۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں اس بار نتائج کا تناسب 15 فیصد کم ہونے کے بعد 31 فیصد ہے لہذا اب اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ ایک بار پھر جانچ شدہ کاپیوں کا جائزہ لے لیا جائے اور اگر کوئی گنجائش نکلتی ہے تو اس تناسب کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بہتر کرلیا جائے کیونکہ فی الحال بورڈ کسی نئی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے کہ انٹر سال اول 2023 کے امتحانات گزشتہ برس جولائی میں منعقد ہوئے تھے،  کراچی کے سرکاری کالجوں کے 38 ہزار طلبہ و طالبات ان نتائج کے اجرا کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ انٹر سال دوم کے امتحانات مئی کے آخر سے شروع ہوجائیں گے اور امتحانات سے اس قدر نزدیک ہونے کے باوجود فی الحال طلبا کو یہ ہی نہیں معلوم کہ وہ انٹر سال اول کے کتنے پرچوں میں پاس ہیں اور کتنے پرچے انھیں دوبارہ دینے ہیں۔

Related Posts