کراچی پولیس ڈاکوؤں کو لگام دینے میں ناکام ہوگئی، 5 ماہ میں 770 گاڑیاں اور 20 ہزار 776 موٹر سائیکلز غائب کردی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ 5 ماہ میں شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائمز میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ شہری دن دہاڑے موٹر سائیکلز، گاڑیوں اور نقد رقم سمیت اپنے قیمتی سامان سے محروم ہو رہے ہیں۔
گزشتہ 5 ماہ میں ہونے والے اسٹریٹ کرائمز، چوریوں اور ڈکیتیوں سمیت دیگر جرائم پر مشتمل رپورٹ جاری کردی گئی۔ اسلحے کے زور پر شہریوں کو 88 گاڑیوں سے محروم کردیا گیا جبکہ 682 گاڑیاں چوری کر لی گئیں جن میں سے پولیس صرف 198 گاڑیاں ریکور کرنے میں کامیاب ہوئی۔
رواں برس جنوری سے لے کر مئی تک شہرِ قائد میں ڈاکوؤں نے شہریوں سے 1 ہزار 736 موٹر سائیکلز چھین لیں۔ 19 ہزار سے زائد موٹر سائیکلز چوری ہوئیں جبکہ پولیس صرف 1 ہزار303 موٹر سائیکلز بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئی۔
شہرِ قائد کے باسیوں سے گزشتہ 5 ماہ کے دوران 10 ہزار 238 موبائل فونز اسلحے کے زور پر چھین لیے گئے جس میں سے پولیس 1 ہزار 182 موبائل فونز برآمد کرنے میں کامیاب ہوئی۔
اغواء برائے تاوان کے 9 واقعات پیش آئے۔ سال 2021ء میں اب تک اغوا برائے تاوان کی 9وارداتیں ہوئیں۔ 192افراد کو ڈکیتی میں مزاحمت اور دیگر مختلف جرائم کے دوران قتل کردیا گیا۔بھتہ خوری کے 10 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
دوسری جانب کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم گھروں میں اور کاروبار کی جگہوں سمیت شہر کے کسی بھی علاقے میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے کیونکہ مسلح ڈکیتیاں، چوری اور چھینا جھپٹی کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں۔
ڈکیت شہرِ قائد کی سڑکوں پر دن دہاڑے دندناتے پھر رہے ہیں اور کراچی پولیس انہیں پکڑنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ گھروں پر خواتین اور بچوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ پولیس فورس کو جرائم کی بیخ کنی کیلئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔