دھرنوں سے کراچی جام ہوکر رہ گیا، پولیس کا ایکشن، جگہ جگہ جھڑپیں، دیکھئے تصاویر میں

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈان

مذہبی جماعت مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے تحت نمائش چورنگی پر دیے جانے والے دھرنے کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، پولیس نے دھرنا ختم کرانے کے لیے مظاہرین پر دھاوا بول دیا جس کے باعث پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں مشتعل مظاہرین نے 4 موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی۔

کراچی میں مذہبی جماعت کا دھرنا آج 8 ویں روز بھی جاری ہے، نمائش چورنگی پر گزشتہ کئی روز سے جاری مذہبی جماعت کے دھرنے میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے، دھرنے کے شرکا نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

مشتعل مظاہرین نے نمائش پر پولیس چوکی جلاڈالی اور ایک گاڑی کو آگ لگادی جبکہ پولیس کی 6 موٹرسائیکلیں بھی نذر آتش کردیں۔

مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائل کے شیشے بھی توڑے گئے، جس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

کشیدگی اور جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ کے بعد پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور مذہبی جماعت کا کیمپ بھی اکھاڑ دیا جبکہ پولیس نے نمائش چورنگی کا کنٹرول سبنھال لیا۔ ادھر رضویہ سوسائٹی میں بھی پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران شیلنگ کی ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے شہر میں دھرنے کی آڑ میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں نذرآتش کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کو صورتحال بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شہری و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت اجازت نہیں، احتجاج کا حق سب کو ہے مگر اس طرح شہری املاک کو نقصان پہنچانا شرانگیزی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جنہوں نے گاڑیاں جلائیں اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، ہم نے دھرنوں کے لیے مخصوص پلیٹ فارم کی اجازت دے رکھی ہے۔

ادھر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید حسن ظفر نقوی نے دھمکی دی ہے کہ ’یہ دھرنا جاری رہے گا جو کرنا ہے کرلو، جن مقامات پر دھرنے ختم کیے تھے اب پھر سے وہاں دھرنے دیئے جائیں گے‘۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کی جانب سے دوپہر میں دھرنے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا مرکزی دھرنا ٹاور پر دیا جائے گا۔ دونوں مذہبی جماعتوں کے دھرنوں کی وجہ سے تصادم کا خدشہ بڑھ گیا۔

پولیس نے شہر میں جاری دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

عباس ٹاؤن میں دھرنے کے دوران پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی، جس سے علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ بھی ہوا۔ پولیس نے دھرنے کا ٹینٹ اکھاڑ دیا، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

پہلے اطلاعات موصول ہوئی کہ پولیس نے شہر میں ہونے والے تمام دھرنے ختم کردایئے ہیں۔ خیال رہے کہ شہر کے 12 مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری تھے جس میں آج صبح کمی آئی اور پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے میں 5 مقامات پر دھرنے ختم کرادیئے۔

آج صبح پولیس نے عباس ٹاون میں ابوالحسن اصفہانی روڈ میں دھرنہ ختم کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی جبکہ یونیورسٹی روڈ میٹرو کے قریب اور کامران چورنگی پر دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس پہنچ گئی۔

Related Posts