کراچی: اتحاد ٹاؤن میں گھریلو تشدد کا ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس میں ایک نوجوان آرتھر کو مبینہ طور پر اس کے سسرالی رشتہ داروں نے زندہ جلا دیا۔ اس اندوہناک واقعے نے نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
آرتھر کو اس کی اہلیہ مشی نے صلح اور باہمی مفاہمت کے بہانے اپنے میکے بلایا۔ جیسے ہی آرتھر اتحاد ٹاؤن میں واقع سسرال کے گھر پہنچا، گھر کا گیٹ بند کر دیا گیا اور اس پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق آرتھر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اُس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔
زخمی آرتھر کو چیخ و پکار کی آواز پر ہمسایوں نے جلتی حالت میں بچایا اور سول اسپتال کراچی کے برنز وارڈ منتقل کیا۔ کئی روز تک طبی امداد کے باوجود آرتھر جانبر نہ ہو سکا اور دوران علاج دم توڑ گیا۔
اپنے انتقال سے قبل آرتھر نے ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا جس میں اس نے اپنی ساس ثمینہ، دو مرد رشتہ داروں اور دیگر خواتین سمیت چھ افراد کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آرتھر کے سسر اور چچا سسر کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
یہ واقعہ گھریلو تشدد کی شدت اور بے رحمی کی ایک اور مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خاندانی تنازعات میں انسانی جان کی قدر کس حد تک ختم ہو چکی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقدمے کو فوری طور پر انسدادِ دہشت گردی عدالت میں منتقل کیا جائے اور تمام ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آرتھر کا ویڈیو بیان اس کیس میں مرکزی ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا، اور انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ کے شہر لاڑکانہ میں بھی ایک انتہائی دلخراش واقعہ منظر عام پر آیا، جہاں شکیل احمد نامی شخص نے اپنے چھ ماہ کے بھانجے پر تشدد کیا، صرف اس لیے کہ وہ اپنے بہنوئی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔
شکیل نے بچے کے منہ میں سبز مرچیں ڈالنے اور جسمانی تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو فوراً وائرل ہو گئی۔ اس دل سوز ویڈیو پر ایس ایس پی لاڑکانہ احمد فیصل چوہدری نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ دونوں واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ گھریلو تنازعات کس حد تک پُرتشدد اور غیر انسانی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اور ان پر قابو پانے کے لیے فوری قانونی اور سماجی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








