کراچی: شہر قائد میں سندھ حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں ہوا میں اڑادی گئیں، کراچی پولیس نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے نئی حکمت عملی تیار کرلی۔
سندھ حکومت نے 25 مئی سے کراچی میں سخت پابندیاں عائد کی تھیں، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رات 8 بجے کے بعد کاموں کے لیے گاڑیوں کو صرف ایک فرد کےساتھ اجازت ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے تمام پارکس اور جوگنگ ٹریکس بند ہوں گے۔
سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں کاروبار کے اوقات صبح 5 بجے سے شام 6 بجے تک ہوں گے، ڈپارٹمنٹل اور سپر اسٹورز شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے تاہم بیکری اور دودھ کی دکانیں رات 12 بجے تک کھلی رہیں گی جب کہ جمعے اور اتوار کے دن کاروبار مکمل بند رہیں گے۔
صوبے بھر میں رات 8 بجے کےبعد لوگوں کو غیر ضروری گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ کو گاڑیوں میں گھومنے والے افراد کو روکنے کی بھی ہدایت کی ۔
دوسری جانب شہریوں نے حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا، پولیس نے پہلے روز مختلف جگہوں پر ناکے لگا کر ٹریفک کنٹرول کرنے کی کوشش کی تاکہ راستے تنگ ہونے کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفک جام رہا۔
پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود شہری آزادانہ طور پر رات 8 بجے کے بعد گھومتے رہے اور غیر ضروری طور پر سڑکوں پر موجود رہے تاہم کوئی سختی دیکھنے میں نہیں آئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آج سے لاک ڈاؤن میں سختی کی جائیگی اور آج سے کسی شہری کو بلا اجازت گھومنے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور ہدایات پر عمل نہ کرنیوالوں کیلئے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور اب لاک ڈاؤن پر ہر صورت عملدرآمد کروایا جائیگا۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت عوام کا معاشی قتل کررہی ہے، شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کورونا کی آڑ میں کاروبار تباہ نہ کیا جائے ۔