کراچی کے بجلی صارفین نئے معاشی بحران سے دوچار ہوگئے، کے الیکٹرک نے اضافی وصولی کی تیاری کرتے ہوئے اینڈ آف ٹرم ایڈجسٹمنٹس کی مد میں نیپرا کو درخوست دائر کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیپر کو پیش کی گئی درخواست میں کے الیکٹرک نے اینڈ آف ٹرم ایڈجسٹمنٹس کی مد میں مجموعی طور پر 58 ارب 95 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کا مطالبہ کیا۔ نیپرا نے درخواست کی سماعت کی تاریخ 22 اپریل مقرر کردی۔
اپنی درخواست میں کے الیکٹرک نے مختلف عنوانات کے تحت ایڈجسٹمنٹس کی تفصیلات پیش کردیں جس میں ایکسچینج ریٹ اثرات اور ریٹرن آف ایکویٹی کے تحت 11ارب روپے سے زائد کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا۔
کے الیکٹرک نے نیپرا کو کی گئی درخواست میں ورکنگ کیپٹل کے اخراجات کے تحت مجموعی طور پر 33 ارب سے زائد کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی درخواست کی جبکہ ٹیکس ادائیگیوں کے مختلف پہلوؤں میں کمپنی نے 15ارب 33کروڑ اضافی وصولی کی منظوری کی درخواست کی ہے۔
سرمایہ کاری نہ ہونے کی مد میں بھی کے الیکٹرک نے 1 ارب 31 کروڑ روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ اور گزشتہ برسوں کے ٹیکس واجبات کے طور پر 7ارب 49 کروڑ روپے اور 3 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا بطور ایڈجسٹمنٹ مطالبہ کیا ہے جو 2022 اور 2023 سے متعلق ہیں۔
یہی نہیں، بلکہ کے الیکٹرک نے پاور پرچیز کی سابقہ ایڈجسٹمنٹس کی مد میں 26 کروڑ صارفین پر منتقل کرنے کی بھی درخواست کی۔ نیپرا کے الیکٹرک کے مطالبات اور ایڈجسٹمنٹ قوانین کے مطابق جائزے، سرمایہ کاری، آئی ڈی سی اثرات اور دیگر مالی دعووں کی تفصیلی تفتیش کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








