سونامی کا نام سنتے ہی ذہنوں میں تباہی کے خدشات جنم لینے لگتے ہیں، سمندری طوفان سے منسوب سونامی دنیا میں کئی جگہوں کے علاوہ پاکستان میں بھی ماضی میں ہولناک تباہی مچاچکا ہے اور کراچی میں بار بار زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے شہر قائد میں سونامی کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
کراچی میں بدھ 19 جون کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے ہیں، 9 بج کر 26 منٹ پر زلزلے محسوس ہونے والے زلزلے کی شدت 3اعشاریہ 2 تھی۔زلزلے کا مرکز کراچی کے جنوب مغرب میں 32 کلومیٹر کے فاصلے پر بحیرۂ عرب میں 42 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔کراچی میں اس سال کا تیسرا زلزلہ تھا، رواں سال کے دوران شہر میں اب تک کم شدت کے 3 زلزلے ریکارڈ ہوچکے ہیں۔
کراچی کے ساحل سے 1945ء میں ایک سونامی ٹکرایا تھاگوکہ اس وقت کراچی کی آبادی بہت کم تھی تاہم اس واقعہ میں کراچی، گوادر ، ایران اور عمان کی ساحلی پٹی کے قریب رہنے والے 4 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
کراچی کے ساحل سے ٹکرانے والے اس سونامی کی شدت 8 آٹھ تھی اور ماہرین کے مطابق دوبارہ کراچی کے ساحل پر اگر 8 کی شدت کا زلزلہ آتا ہے تو اس سے سونامی کا خطرہ ہوگا۔
کراچی کے علاوہ بلوچستان کے ساحلوں پر بھی سونامی کے خطرات کا سامنا ہے، مکران کے سمندر کے قریب سبڈکشن زون ہے جہاں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے، دنیا کے تمام سائنسدان متفق ہیں کہ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں بڑا سونامی آسکتا ہے ، اس سے قریب ہونے کے باعث گوادر، اورماڑہ اور پسنی شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔
1945سونامی کے اثرات آج بھی کراچی میں دیکھے جاسکتے ہیں، کراچی کے لائٹ ہاؤس پر سونامی کے آثار نمایاں ہیں۔ماہرین کے مطابق سونامی کی صورت میں کراچی کے پاس 60 سے87، گوادر اور پسنی کے پاس صرف 13 منٹ ہونگے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








