کراچی ( نگاہ محمد) کراچی کےعلاقے تین ہٹی میں واقع ہندو محلہ میں گزشتہ رات لگنے والی خوفناک آگ کے باعث 400 کے قریب جھگیاں جل کر خاکستر ہوگئی۔
تین ہٹی میں واقع ہندو محلہ کی تاریخ پاکستان کے قیام سے بھی پہلے کی ہے اور یہاں مقیم ہندو آبادی تب سے یہاں رہائش پذیر ہے۔
آگ کی نظر ہونے والی ایک جھگی کی رہائشی خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی بچی کے لیے جہیز کا سامان اور پیسے جمع کر کے رکھے تھے وہ بھی گھر کے دیگر سامان کے ساتھ جل کر ختم ہوگئےجبکہ جھگی کے خاتمے کے باعث چھوٹے بچوں کوبھی کھلے آسمان تلے سلانے پر مجبور ہیں۔

آگ سے متاثر ہونے والے ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی 2 ماہ کی تنخواہ سنبھال کر رکھی تھی جو اس آگ کی نظر ہوگئی ، علاوہ ازیں بستی میں پھول کا کام آتشزدگی کے واقعے کے بعد بھی جاری ہے۔
اس حوالے سے پھول کا کاروبار کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ آگ سے سب تباہ ہوگیا لیکن پیٹ پالنے کے لیے کاروبار جاری رکھے ہوئے تاکہ اپنے گھر والوں کو 2 وقت کی روٹی مہیا کرسکیں۔
بستی میں موجود ایک فٹ بال کلب کے مالی کا کہنا تھا کہ ساڑھے 9 بجے کے قریب میں نے پہلی بار تھوڑی سے آگ لگی ہوئی دیکھی تھی اور 15 منٹ میں ہی وہ آگ پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے 2 مقامات پر خوفناک آتشزدگی کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہو گئے
اس کا کہناتھا کہ نجی ٹی وی سما کہہ رہا ہے کہ آگ دیے کے جلنے کے باعث لگی ہے جبکہ دیے کی آگ اس سے قبل بھی کئی بار لگ چکی ہے لیکن اس پر آسانی سے قابو پالیاگیاتھا۔
بستی میں مقیم رہائشیوں کا کہنا تھا کہ آگ کے باعث ان کے شناختی کارڈ، بچوں کے بے فارم سمیت دیگر ضروری کاغذات بھی جل کر ختم ہوگئے جس کی وجہ سے وہاں موجود افراد کو شدید تشویش لاحق ہے۔
بستی میں ایک پنڈت کاکہنا تھا کہ سماجی کارکنان جیسے عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، ایدھی ٹرسٹ اور دیگر اس حوالے سے کام کرنے والے ادارے اور افراد یہاں موجود لوگوں کی مختلف طرح سے مدد کررہے ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








