غاصب بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے مظلوم کشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔
بھارت کی نریندر مودی حکومت کی طرف سے حقِ خود ارادیت نہ دئیے جانے کے ساتھ ساتھ تاریخِ انسانی کے بد ترین کرفیو کے خلاف یومِ سیاہ کے دوران کشمیری بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کریں گے۔
نریندر مودی حکومت نے 5 اگست کے یکطرفہ، غیر قانونی اور ظالمانہ اقدام کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اسے بھارتی ریاست کا حصہ قرار دیا جس کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے۔
یومِ سیاہ کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں رہنے والے مظلوم کشمیری سیاہ جھنڈے لہرا کر بھارت کا سفاک چہرہ دنیا بھر میں بے نقاب کریں گے۔
بھارتی حکومت کے خلاف خود بھارت میں بھی ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔ شہریت کے مسلم مخالف متنازعہ قانون کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی کشمیر کی آزادی کا مطالبہ جاری ہے۔
مظلوم کشمیری 70 سال سے اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حقِ خود ارادیت اور خودمختاری و آزادی چاہتے ہیں جس کا بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقعے پر مطالبہ ایک بار پھر دہرایا جائے گا۔
کالے جھنڈے لہرا کر مظلوم کشمیری اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری سے مسئلۂ کشمیر کے حل کا مطالبہ کریں گے۔یومِ سیاہ کے موقعے پر کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی اور دنیا بھر میں بھارت کے خلاف مظاہرے ہوں گے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخِ انسانی کے بدترین کرفیو کا آج 175واں روز ہے جبکہ طویل ترین کرفیو کے دوران بھارتی فوج کے مظالم اور ظلم و تشدد آج بھی جاری ہے۔
بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پکڑ دھکڑ، نام نہاد سرچ آپریشن، ظلم و تشدد اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے دوران آئے دن مظلوم کشمیری اپنی جانوں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بد ترین کرفیو کا 175واں روز
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








