کراچی: کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کیپٹیو پاور صارفین پر گیس ٹرانزیشن لیوی کے نفاذ کو غیر منصفانہ، ناقابل جواز اور ناقص طریقہ کار پر مبنی قرار دیا اور اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ کاٹی کی تیار کردہ تکنیکی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگر گیس کی قیمت 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بھی مقرر کی جائے تو کیپٹیو پاور سے بجلی کی پیداواری لاگت اب بھی قومی گرڈ سے حاصل کی جانے والی B3 صنعتی ٹیرف بجلی سے زیادہ ہے۔
محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کیپٹیو جنریشن کی حوصلہ شکنی اور صنعتوں کو گرڈ پر منتقل کرنے کا مقصد پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے لہٰذا کسی اضافی لیوی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ لیوی کے جواز کے لیے استعمال ہونے والا تخمینہ جاتی طریقہ کار بنیادی طور پر غلط ہے، جس کے باعث لاگت کے موازنے مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اور پالیسی سازی میں گمراہ کن فیصلے سامنے آئے۔
صدر کاٹی کے مطابق ایسے ناقص بنیاد پر لیوی کا نفاذ نہ صرف معاشی طور پر غیر منطقی ہے بلکہ صنعتی اعتماد اور توانائی مارکیٹ کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔
محمد اکرام راجپوت نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ جب تک تخمینہ جاتی طریقہ کار کا شفاف مشاورت کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ از سرِ نو جائزہ نہیں لیا جاتا،تب تک اس لیوی کے نفاذ کو فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں گیس کی فراہمی وافر مقدار میں دستیاب ہے، جبکہ گیس کمپنیاں خود سینکڑوں ارب روپے کے خسارے کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے میں گیس پر مزید لیوی عائد کرنا اور اسے ناقابل برداشت بنانا کسی طور مناسب نہیں۔
صدر کاٹی نے مزید کہا کہ کراچی کی صنعتیں پہلے ہی مہنگی بجلی اور ایندھن کی بڑھتی لاگت کا دباؤ برداشت کر رہی ہیں اور ایسے وقت میں مزید غیر منصفانہ مالی بوجھ ڈالنا صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار پر منفی اثر ڈالے گا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمت کا براہ راست تعلق ملکی مسابقت اور ترقی سے ہے۔ بغیر تصدیق شدہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے قومی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
محمد اکرام راجپوت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کاٹی پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر توانائی کے شعبے میں شفاف، فنی طور پر درست اور منصفانہ اصلاحات کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








