کراچی: ضلع کورنگی ابراہیم گوٹھ کی رہائشی چوتھی جماعت کی طالبہ 13 سالہ مغوی بے نظیر ولد عبدالستار کو 9روز بعد بھی بازیاب نہ کرایا جا سکا۔
سندھ کی صوبائی وزیر شہلا رضا نے ابراہیم گوٹھ کورنگی میں 13 سالہ بچی کے مبینہ اغوا کا نوٹس لے لیا۔ایس ایس پی کورنگی کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائیں اور واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کرے جبکہ بچی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔
مغوی بے نظیرکے بھائیوں وقار احمد نے ایم ایم نیوز ٹی وی کو بتایا کہ 15 روز قبل محمد غلام نے رشتہ مانگا تھا، انکار پر 50 افراد کے ساتھ گھر پر 9 روز قبل حملہ کیا اہل خانہ کو زدکوب کیا اور میری معصوم بہن 13 سالہ چوتھی جماعت کی طالبہ بے نظیر کو اٹھا کر لے گئے۔محمد غلام کے ساتھ اس کا ساتھی یامین بھی موجود تھا۔
مغوی کے بھائی کے مطابق مقدمہ نمبر 192/21تھانہ کورنگی صنعتی علاقہ (کے آئی اے) میں درج کرایا گیا تھا۔ تاہم پولیس با اثر اغوا کاروں کی مبینہ سرپرستی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اغوا کار محمد غلام 15 روز قبل رشتہ لے کر آیا تھا تاہم میری بہن اسکول میں چوتھی جماعت کی طالبہ ہے اور اس کی عمر صرف 13 سال ہے۔
محمد غلام جس کی عمر 22 سال کے لگ بھگ ہے، وہ ہمیں کہہ رہا ہے کہ میں نے بے نظیر سے نکاح کر لیا ہے، مگریہ ممکن ہی نہیں ہے کیوں کہ قانونی طور پر بے نظیر ابھی چوتھی جماعت کی 13 سالہ کم سن لڑکی ہے۔
کمسن لڑکی کے اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ، آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سے اپیل کی ہے کہ معصوم بینظیر کو فوری بازیاب کرایا جائے اور تھانہ کے آئی اے کی ٹال مٹول کا نوٹس لیا جائے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








