کراچی میں قائم افغان خواتین کا ‘کچن کیفے’ غیر یقینی کا شکار، وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کے وسط میں واقع افغان خواتین کے ایک ‘کچن کیفے’ کو غیر دستاویزی مہاجرین کی واپسی کے باعث غیر یقینی مستقبل درپیش ہے۔

کراچی کے مرکزی علاقے کی ایک پررونق گلی میں ایک کیفے ہے، جس کا سارا انتظام افغان خواتین سنبھالتی ہیں۔

پورے کے پورے خواتین پر مشتمل اس کچن کیفے کا آغاز ایک گمنام مقامی غیر منافع بخش تنظیم نے افغان مہاجر خواتین کی مدد کے لیے کیا تھا لیکن اب وہاں کے باورچی اور کارکنان روزانہ اپنے اور کیفے کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار رہتے ہیں کیونکہ حکام بے دخلی کی مہم کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو پکڑ رہے ہیں۔

‘ہیومین اے آئی پن’ نامی ڈیوائس کیا ہے اور یہ موبائل فون کی موجودہ شکل کا کیسے خاتمہ کرے گا؟

یکم نومبر سے اب تک دسیوں ہزار افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں جبکہ کئی افغان بالخصوص افغان خواتین اس لیے روپوش ہیں کیونکہ انہیں اپنے وطن میں طالبان انتظامیہ کے تحت ظلم و ستم کا خوف لاحق ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق کیفے کی شیف شبانہ آغا نے بتایا کہ ہم آٹھ افراد کا خاندان ہیں اور وہ کیفے کی دیگر کارکنوں کی طرح پاکستان میں رہنے والے اپنے افغان خاندان کی واحد کفیل ہیں۔

شبانہ آغا نے مزید کہا کہ موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے ہمیں اور غیر دستاویزی افراد کو بالخصوص پولیس کی ہراسانی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیے سونا اور سکون سے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔

شبانہ آغا سے جب پوچھا گیا کہ وہ افغانستان واپسی کے امکان کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہر کوئی بہت دباؤ کا شکار ہے۔

شبانہ آغا نے کہا کہ وہ افغان کھانوں میں مہارت رکھنے والے کیفے میں شامل ہونے سے پہلے تین سالوں تک اپنی کھانا پکانے کی صلاحیتوں کو نکھارتی رہیں جس کا آغاز گھر میں کھانا بنانے سے ہوا۔ اس افغان ریستوران کے پاس شبانہ آغا کے علاوہ دو باورچی ہیں جو آش، مومو، افغانی پلاؤ، منتو اور بولانی جیسے لذیذ افغان پکوان پیش کرتے ہیں۔

شبانہ آغا کی مدد کرنے والی ایک رجسٹرڈ پناہ گزین نسیمہ قاسم نے کہا کہ ان کے پاس پاکستان میں رہنے کے لیے دستاویزات ہیں تو وہ ملک بدری کے خطرے سے مستثنیٰ ہونے کی بنا پر مطمئن ہیں لیکن انہوں نے کریک ڈاؤن کے وسیع تر اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا کیونکہ کئی دستاویزی افغانوں نے بھی ہراسانی اور گرفتاریوں کی شکایت کی ہے۔ وہ اس بات سے بھی پریشان تھیں کہ کیفے کو بند کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے جس سے یہاں کام کرکے روزی کمانے والی افغان خواتین کا روزگار متاثر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم سمیت اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تندہی سے کام کرتے ہیں۔ وہ سب کو نکال کر افغانستان بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم افغانستان واپس چلے گئے تو مجھے ڈر ہے کہ میں یہ اپنا پیشہ جاری نہیں رکھ سکوں گی۔ افغانستان کے حالات کی وجہ سے میرے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اگر میں واپس چلی گئی تو مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے ساتھ وہاں کیا ہو گا۔

Related Posts