خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے قانونی اور آئینی راستوں کے باوجود محروم رہنے پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں نے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔ میرے لیے اپنے رہنما سے ملاقات کے بعد اور کون سا راستہ بچا ہے؟۔
گزشتہ رات دھرنے کو ختم کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ آفریدی نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے باوجود نہ تو وہ اور نہ ہی دیگر سیاسی رہنما عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت حاصل کر سکے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ سابقہ واقعات سے کیا اور کہا کہ جو لوگ لندن فرار ہوتے تھے، انہیں 50، 50 افراد سے ملاقات کی اجازت دی جاتی تھی۔
اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا۔ محمد اقبال چکزی نے کہاکہ اگر وزیراعلیٰ پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں عوامی طاقت استعمال کر کے اسمبلی کے اجلاس روکنے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے آئندہ اقدامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں مطلع کریں گے کہ تین ججوں نے رسمی احکامات جاری کیے ہیں۔
آخر میں سہیل آفریدی نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے ہی احکامات کے نفاذ کو یقینی نہیں بناتیں، تو ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








