کرم میں مزید 3 افراد لقمہ اجل، اموات کی تعداد 110 تک پہنچ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

Kurram’s clashes claim three more lives, death toll reaches 110
ضلع کرم میں جاری جھڑپوں کے باعث مزید تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، آٹھ دنوں میں اموات کی تعداد 110 تک پہنچ گئی ، زخمیوں کی تعداد 151 ہو چکی ہے، یہ صورتحال حالیہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود برقرار ہے۔
ضلع کرم میں پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ آٹھویں دن بھی بند ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ خاص طور پر افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر پر تجارت معطل ہو چکی ہے۔ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل ہیں، جس کی وجہ سے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جھڑپوں کا آغاز 21 نومبر کو دو قافلوں پر حملے سے ہوا، جس میں 52 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سے فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ہنگو، اورکزئی، اور کوہاٹ کے مشران کی ایک جرگہ دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے کہا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
https://urdu.mmnews.tv/india-appoints-judicial-inquiry-commission-to-probe-sambhal-violence/

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: رواں سال جولائی سے اکتوبر کے دوران، انسانی حقوق کمیشن نے علاقے میں 79 اموات ریکارڈ کیں، جو کہ خطے کی مسلسل غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔حالیہ ہفتے میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی اختر حیات گنڈاپور کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح وفد نے جنگ بندی کی کوشش کی، لیکن جھڑپیں دوبارہ شروع ہوگئیں۔
ضلع کرم میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے، اور مقامی انتظامیہ امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں ایک مستقل حل کی ضرورت ہے تاکہ عوامی اور تجارتی زندگی کو معمول پر لایا جا سکے۔

Related Posts