لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو قبرستانوں میں مفت تدفین کا حکم دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو قبرستانوں میں مفت تدفین کا حکم دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو قبرستانوں میں مسلمان شہری کی میت کی مفت تدفین کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے پنجاب حکومت کو قبرستانوں میں مفت تدفین کا حکم جاری کیا جبکہ یہ فیصلہ ایک کیس کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

ہائیکورٹ کے جاری کردہ 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں احادیث اور عالمی قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں ایل ڈی اے اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر قبرستانوں کی جگہ مختص کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔

آئندہ سماعت کیلئے عدالتِ عالیہ لاہور نے سب رجسٹرار پراپرٹیز کو اصل دستاویزات کے ہمراہ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ شہری ساری زندگی ٹیکس ادا کرتا ہے۔

اپنے فیصلے میں چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ مرتے وقت شہریوں سے قبر اور دیگر اشیاء کے پیسے لیے جاتے ہیں۔ حکومت اسلامی قوانین کی روشنی میں قبرستانوں کے حوالے سے اقدامات اٹھائے۔

فیصلے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ متعلقہ شہری کی تدفین کے اخراجات برداشت کرے۔انتظامیہ مفت ٹرانسپورٹ دے،  قبرستان کی دیکھ بھال کرے اور درخت بھی لگوائے۔

چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پنجاب کے 4 شہروں میں فوراً ماڈل قبرستان قائم کرے، قبرستان سے متعلق اتھارٹی مکمل اختیارات کے ساتھ فعال کی جائے اور شہرِ خاموشاں اتھارٹی میں میرٹ پر بھرتیاں ہونی چاہئیں۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی دھرنے کے اصل حقائق سے آگہی کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے غیر متعلقہ درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔

آج سے 2 ماہ قبل 15 اپریل کے روز لاہور ہائی کورٹ نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ عدالت نے بے بنیاد درخواست دائر کرنے پر درخواست گزار پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم ہے آپ کو فنڈنگ کہاں سے کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ، غیرمتعلقہ درخواست دینے پر2لاکھ روپے جرمانہ عائد

Related Posts