لاہور پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے مبینہ طور پر کھیتوں میں ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور لاش کے ٹکڑے کر کے انہیں ریلوے ٹریک پر پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم شوکت مسیح کا مقتولہ کے ساتھ ناجائز تعلق تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار آلہ ملزم کے قبضے سے برآمد کر لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ شوکت مسیح کو تفتیشی ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں، خاص طور پر پنجاب میں ایسے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں اور مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ہر سال سیکڑوں خواتین اور بچے اس گھناؤنے جرم کا شکار بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنسی زیادتی کے بیشتر واقعات میں متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں جن میں قانونی پیچیدگیاں، متاثرہ افراد پر دباؤ، اور کیسز میں تاخیر شامل ہیں۔
حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے خصوصی قوانین متعارف کروائے ہیں جن میں 2020 میں بننے والا اینٹی ریپ قانون شامل ہے، جو متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا وعدہ کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








